حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 373

۱۰۵۵ پرده آج کل پردہ پر حملے کئے جاتے ہیں لیکن یہ لوگ جانتے نہیں کہ اسلامی پردہ سے مراد زنداں نہیں بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔جب پردہ ہو گا ٹھوکر سے بچیں گے۔ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مرد وعورت اکٹھے بلا تامل اور بے محابا مل سکیں۔سیر میں کریں کیونکر جذبات نفس سے اضطرار ا ٹھو کر نہ کھا ئیں گے۔بسا اوقات سننے، دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قو میں غیر مرد عورت کے ایک مکان میں تنہا رہنے کو حالانکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں یہ گویا تہذیب ہے۔انہیں بدنتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے ہی کی اجازت نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ایسے موقع میں یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح دو غیر محرم مرد و عورت جمع ہوں تیسرا اُن میں شیطان ہوتا ہے۔اُن ناپاک نتائج پر غور کرو جو یورپ اس خلیج الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے۔بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفا نہ زندگی بسر کی جارہی ہے۔یہ انہی تعلیموں کا نتیجہ ہے۔اگر کسی چیز کو خیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو۔لیکن اگر حفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یاد رکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہوگی۔اسلامی تعلیم کیا پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مرد و عورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی جس سے یورپ نے آئے دن کی خانہ جنگیاں اور خود کشیاں دیکھیں۔بعض شریف عورتوں کا طوائفا نہ زندگی بسر کرنا ایک عملی نتیجہ اس اجازت کا ہے جو غیر عورت کو دیکھنے کے لئے دی گئی۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۴۸ - ملفوظات جلد اول صفحه ۲۱ ۲۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) اسلامی پردہ سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانہ کی طرح بند رکھی جاوے۔قرآن شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں۔وہ غیر مرد کو نہ دیکھیں۔جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی امور کے لئے پڑے ان کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے ، وہ بے شک جائیں لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحه ۲۹۷، ۲۹۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) ساتھ ہی میں ایک اور عرض کے لئے جرات کرتا ہوں کہ گو آریہ صاحبوں کو اس زمانہ میں مسلمانوں سے کیسی ہی نفرت ہے اور اسلام کے عقائد سے کیسی ہی بیزاری ہے مگر برائے خدا پردہ کی رسم کو بلکلی الوداع