حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 372

۱۰۵۴ بیوی کو یہ خیال کب ہوسکتا ہے کہ میں تہجد پڑھوں۔خاوند تو چوری کرنے جاتا ہے تو کیا وہ پیچھے تہجد پڑھتی ہے۔الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ ے اس لئے کہا ہے کہ عورتیں خاوندوں سے متاثر ہوتی ہیں۔جس حد تک خاوند صلاحیت اور تقویٰ بڑھاوے گا کچھ حصہ اس سے عورتیں ضرور لیں گی۔ویسے ہی اگر وہ بدمعاش ہو گا تو بدمعاشی سے وہ حصہ لیں گی۔(البدر مورخہ ۲۷ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ہے کالم ۳، صفحہ ۷۵ کالم نمبر ا۔ملفوظات جلد سوم صفحه ۱۶۳ ۱۶۴ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) اگر تم اپنی اصلاح چاہتے ہو تو یہ بھی لازمی امر ہے کہ گھر کی عورتوں کی اصلاح کرو۔عورتوں میں بت پرستی کی جڑ ہے کیونکہ اُن کی طبائع کا میلان زینت پرستی کی طرف ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بت پرستی کی ابتدا انہی سے ہوئی ہے۔بزدلی کا مادہ بھی ان میں زیادہ ہوتا ہے کہ ذراسی تختی پر اپنے جیسی مخلوق کے آگے ہاتھ جوڑنے لگ جاتی ہیں۔اس لئے جو لوگ زن پرست ہوتے ہیں رفتہ رفتہ اُن میں بھی یہ عادتیں سرایت کر جاتی ہیں۔پس بہت ضروری ہے کہ ان کی اصلاح کی طرف متوجہ رہو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ ہے اور اسی لئے مرد کو عورتوں کی نسبت قوی زیادہ دیئے گئے ہیں۔اس وقت جونئی روشنی کے لوگ مساوات پر زور دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرد اور عورت کے حقوق مساوی ہیں اُن کی عقلوں پر تعجب آتا ہے وہ ذرا مردوں کی جگہ عورتیں کی فوجیں بنا کر جنگوں میں بھیج کر دیکھیں تو سہی کہ کیا نتیجہ مساوی نکلتا ہے یا مختلف؟ ایک طرف تو اُسے حمل ہے اور ایک طرف جنگ ہے وہ کیا کر سکے گی ؟ غرضیکہ عورتوں میں مردوں کی نسبت قومی کمزور ہیں اور کم بھی ہیں اس لئے مرد کو چاہئے کہ عورت کو اپنے ماتحت رکھے۔البدر مورخه ۱۸ ستمبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۶ کالم ۳،۲۔ملفوظات جلد چہارم صفحه ۱۰۴ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا۔مگر تا ہم آپ کی بیویاں سب کام کر لیا کرتی تھیں۔جھاڑو بھی دے لیا کرتی تھیں۔اور ساتھ اس کے عبادت بھی کرتی تھیں چنانچہ ایک بیوی نے اپنی حفاظت کے واسطے ایک رسہ لٹکا رکھا تھا کہ عبادت میں اونگھ نہ آئے عورتوں کے لئے ایک ٹکڑا عبادت کا خاوندوں کا حق ادا کرنا ہے اور ایک ٹکڑا عبادت کا خدا کا شکر بجالانا ہے۔البدر مورخہ ۲۴ / جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۱۰ کالم نمبر ا۔ملفوظات جلد سوم صفحہ ۳۶۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) ۲۰۱ النساء : ۳۵