حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 371
۱۰۵۳ خدا کے قانون کو اس کے منشاء کے برخلاف ہرگز نہیں برتنا چاہئے اور نہ اس سے ایسا فائدہ اٹھانا چاہئے جس سے وہ صرف نفسانی جذبات کی ایک سپر بن جاوے۔یاد رکھو کہ ایسا کرنا معصیت ہے۔خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ شہوات کا تم پر غلبہ نہ ہو بلکہ تمہاری غرض ہر ایک امر میں تقویٰ ہو۔( البدر مورخہ ۸/ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ۲ کالم ۱ تا ۳۔ملفوظات جلد چہارم صفحه ۵۰،۴۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعا نہیں کی۔مختصر الفاظ میں بیان فرما دیا ہے۔وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِ یے کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں۔بعض لوگوں کا حال سُنا جاتا ہے کہ ان بے چاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔گالیاں دیتے ہیں۔حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کر دیتے ہیں چاہئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو بچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔اگر انہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خَيْرُكُمْ خَيْرُ كُم لاهله تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہے۔(البدر مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳۷ کالم ۲ ،۳۔ملفوظات جلد سوم صفحه ۳۰۰ ،۳۰۱ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ اپنی پر ہیز گاری کے لئے عورتوں کو پر ہیز گاری سکھاویں ورنہ وہ گنہگار ہوں گے اور جبکہ اس کی عورت سامنے ہو کر بتلا سکتی ہے کہ تجھ میں فلاں فلاں عیب ہیں تو پھر عورت خدا سے کیا ڈرے گی۔جب تقویٰ نہ ہو تو ایسی حالت میں اولا د بھی پلید پیدا ہوتی ہے اولاد کا طیب ہونا تو طیبات کا سلسلہ چاہتا ہے۔اگر یہ نہ ہو تو پھر اولا دخراب ہوتی۔اس لئے چاہئے کہ سب تو بہ کریں اور عورتوں کو اپنا اچھا نمونہ دکھلاویں۔عورت خاوند کی جاسوس ہوتی ہے۔وہ اپنی بدیاں اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا۔نیز عورتیں چھپی ہوئی دانا ہوتی ہیں۔یہ نہ خیال کرنا چاہئے کہ وہ احمق ہیں۔وہ اندر ہی اندر تمہارے سب اثر وں کو حاصل کرتی ہیں۔جب خاوند سیدھے رستہ پر ہوگا تو وہ اس سے بھی ڈرے گی اور خدا سے بھی۔سب انبیاؤں اولیاؤں کی عورتیں نیک تھیں اس لئے کہ اُن پر نیک اثر پڑتے تھے۔جب مرد بدکار اور فاسق ہوتے ہیں تو اُن کی عورتیں بھی ویسی ہی ہوتی ہیں۔ایک چور کی البقرة: ٢٢٩