حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 365

۱۰۴۷ حدیث میں ہے خَيْرُ كُمُ خَيْرُ كُمْ لِاَهْلِهِ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو اُن کے لئے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو۔کیونکہ نہایت بد، خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندہ برتن کی طرح جلد مت توڑو۔(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۷۵ حاشیہ ) مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ اعتراض قرآن شریف پر پیش کیا کہ خاوند کی مرضی پر طلاق رکھی ہے۔اس سے شاید اس کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ عقل کی رو سے مرد اور عورت درجہ میں برابر ہیں تو پھر اس صورت میں طلاق کا اختیار محض مرد کے ہاتھ میں رکھنا بلاشبہ قابل اعتراض ہو گا۔پس اس اعتراض کا یہی جواب ہے کہ مرد اور عورت درجہ میں ہرگز برابر نہیں۔دنیا کے قدیم تجربہ نے یہی ثابت کیا ہے کہ مرد اپنی جسمانی اور علمی طاقتوں میں عورتوں سے بڑھ کر ہیں اور شاذ و نادر حکم معدوم کا رکھتا ہے۔پس جب مرد کا درجہ باعتبار اپنے ظاہری اور باطنی قوتوں کے عورت سے بڑھ کر ہے تو پھر یہی قرین انصاف ہے کہ مرد اور عورت کے علیحدہ ہونے کی حالت میں عنان اختیار مرد کے ہاتھ میں ہی رکھی جائے مگر تعجب ہے کہ یہ اعتراض ایک آریہ نے کیوں پیش کیا ؟ کیونکہ آریوں کے اصول کی رو سے تو مرد کا درجہ عورت سے اس قدر بڑھ کر ہے کہ بغیر لڑ کا پیدا ہونے کے نجات ہی نہیں ہو سکتی۔بات ہر ایک کو معلوم ہے کہ اگر ایک آریہ کی چالیس لڑکیاں بھی ہوں یا فرض کرو کہ سولر کی ہو تب بھی وہ اپنی نجات کے لئے فرزند نرینہ کا خواہشمند ہوتا ہے اور اس کے مذہب کی رو سے سولڑ کیاں بھی ایک لڑکے کے برابر نہیں ہوسکتیں۔ماسوا اس کے منوشاستر کو پڑھ کر دیکھ لو کہ اس میں بھی صاف لکھا ہے کہ اگر عورت مرد کی دشمن ہو جائے یا زہر دینا چاہے یا اور کوئی ایسا سبب ہو تو مرد کو طلاق دینے کا اختیار ہے۔اور عملی طور پر تمام شریف ہندوؤں کا یہی طریق ہے کہ اگر عورت کو بد کار اور بدچلن پاویں تو اس کو طلاق دے دیتے ہیں۔اور تمام دنیا میں انسانی فطرت نے یہی پسند کیا ہے کہ ضرورتوں کے وقت میں مرد عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور مرد کا عورت پر ایک حق زائد بھی ہے کہ مرد عورت کی زندگی کے تمام اقسام آسائش کا متکفل ہو جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِوَتُهُنَّ البقرة: ٢٠