حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 361
۱۰۴۳ پھر کیا یہی خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ ایسے کذاب اور بے باک مفتری کو جلد نہ پکڑے یہاں تک کہ اس افترا پر بیس برس سے زیادہ عرصہ گذر جائے۔کون اس کو قبول کر سکتا ہے کہ وہ پاک ذات جس کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ ہمیشہ جھوٹے ملہموں کو بہت جلد کھاتی رہی ہے اس لمبے عرصہ تک اس جھوٹے کو چھوڑ دے جس کی نظیر دنیا کے صفحہ میں مل ہی نہیں سکتی۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا یعنی اُس سے زیادہ تر ظالم اور کون ہے جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔بے شک مفتری خدا تعالیٰ کی لعنت کے نیچے ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ پر افترا کرنے والا جلد مارا جاتا ہے۔سو ایک تقوی شعار آدمی کے لئے یہ کافی تھا کہ خدا نے مجھے مفتریوں کی طرح ہلاک نہیں کیا۔بلکہ میرے ظاہر اور میرے باطن اور میرے جسم اور میری روح پر وہ احسان کئے جن کو میں شمار نہیں کر سکتا۔میں جوان تھا جب خدا کی وحی اور الہام کا دعویٰ کیا اور اب میں بوڑھا ہو گیا اور ابتدائے دعوی پر بیس برس سے بھی زیادہ عرصہ گذر گیا۔بہت سے میرے دوست اور عزیز جو مجھ سے چھوٹے تھے فوت ہو گئے اور مجھے اُس نے عمر دراز بخشی اور ہر یک مشکل میں میرا متکفل اور متولی رہا۔پس کیا ان لوگوں کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ پر افتری باندھتے ہیں۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۴۹ تا ۵۱) یہی قانون خدا تعالیٰ کی قدیم سنت میں داخل ہے کہ وہ نبوت کے جھوٹا دعویٰ کرنے والے کو مہلت نہیں دیتا بلکہ ایسا شخص جلد پکڑا جاتا اور اپنی سزا کو پہنچ جاتا ہے۔اس قاعدہ کے لحاظ سے ہمیں چاہیے کہ ہم ان تمام لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور ان کو سچا سمجھیں جنہوں نے کسی زمانہ میں نبوت کا دعوی کیا اور پھر وہ دعویٰ ان کا جڑ پکڑ گیا اور اُن کا مذہب دنیا میں پھیل گیا اور استحکام پکڑ گیا اور ایک عمر پا گیا۔اور اگر ہم اُن کے مذہب کی کتابوں میں غلطیاں پائیں یا اس مذہب کے پابندوں کو بد چلنیوں میں گرفتار مشاہدہ کریں تو ہمیں نہیں چاہیے کہ وہ سب داغ ملالت اُن کے مذہب کے بانیوں پر لگاویں کیونکہ کتابوں کا محرف ہو جانا ممکن ہے۔اجتہادی غلطیوں کا تفسیروں میں داخل ہو جانا ممکن ہے لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی شخص کھلا کھلا خدا پر افترا کرے اور کہے کہ میں اس کا نبی ہوں اور اپنا کلام پیش کرے اور کہے کہ یہ خدا کا کلام ہے“ حالانکہ وہ نہ نبی ہو اور نہ اس کا کلام خدا کا کلام ہو اور پھر خدا اس کو بچوں کی طرح مہلت دے اور بچوں کی طرح اس کی قبولیت پھیلائے۔تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۵۸) الانعام:۲۲