حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 359
۱۰۴۱ کیونکہ یہ تو صرف سادگی اور کمی علم کی وجہ سے ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر نوح کی قوم کا اعتراض شریفانہ رنگ میں ہوتا تو اللہ تعالیٰ نہ پکڑتا۔ساری قو میں اپنی کرتوتوں کی پاداش میں سزا پاتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے تو یہاں تک بھی فرما دیا ہے کہ جو لوگ قرآن سننے کے لئے آتے ہیں اُن کو امن کی جگہ تک پہنچا دیا جاوے خواہ وہ مخالف اور منکر ہی ہوں۔اس لئے کہ اسلام میں جبر اور اکراہ نہیں جیسے فرمایا۔لا إكْرَاهَ فِي الدِّينِ لے لیکن اگر کوئی قتل کرے گا یا قتل کے منصوبے کرے گا اور شرارتیں اور ایذا رسانی کی سعی کرتا ہے تو ضرور ہے کہ وہ سزا پاوے۔الحکم، مورخہ ۱۰ را پریل ۱۹۰۲ء صفحیہ کالم ۲ ،۳۔ملفوظات جلد دوم صفحہ ۱۱۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) قرآن شریف میں صدہا جگہ اس بات کو پاؤ گے کہ خدا تعالیٰ مفتری علی اللہ کو ہر گز سلامت نہیں چھوڑتا اور اسی دنیا میں اس کو سزا دیتا ہے اور ہلاک کرتا ہے۔دیکھو اللہ تعالیٰ ایک موقع میں فرماتا ہے کہ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَری۔یعنے مفتری نامراد مرے گا۔اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا اَوْ كَذَبَ بِالتِہ کے یعنے اس شخص سے ظالم ترکون ہے جو خدا پر افتراء کرتا ہے یا خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے خدا کے نبیوں کے ظاہر ہونے کے وقت خدا کی کلام کی تکذیب کی خدا نے اس کو زندہ نہیں چھوڑا اور بُرے بُرے عذابوں سے ہلاک کر دیا۔دیکھو نوح کی قوم اور عاد و ثمود اور لوط کی قوم اور فرعون اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن مکہ والے ان کا کیا انجام ہوا۔پس جبکہ تکذیب کرنے والے اسی دنیا میں سزا پا چکے تو پھر جو شخص خدا پر افترا کرتا ہے جس کا نام اس آیت میں پہلے نمبر پر ذکر کیا گیا ہے وہ کیونکر بیچ سکتا ہے۔کیا خدا کا صادقوں اور کاذبوں سے معاملہ ایک ہوسکتا ہے اور کیا افتراء کرنے والوں کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا میں کوئی سزا نہیں۔مَالَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ہے اور پھر ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُه وَ اِنْ يَّكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفُ كَذَّابٌ ہے یعنے اگر یہ نبی جھوٹا ہے تو اپنے جھوٹ سے ہلاک ہو جائے گا اور اگر سچا ہے تو ضرور ہے کہ کچھ عذاب تم بھی چکھو کیونکہ زیادتی کرنے والے خواہ افترا کریں خواہ تکذیب کریں خدا سے مدد نہیں پائیں گے۔اب دیکھو اس سے زیادہ تصریح کیا ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں بار بار البقرة: ۲۵۷ طه: ۶۲ الانعام:۲۲ الصفت : ۱۵۵ المومن: ٢٩