حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 358
۱۰۴۰ پر توہ کے نیچے سے اپنے تئیں باہر کرے اور فطرت کو بدل ڈالے اُس کے حق میں اسی کی شامت اعمال کی وجہ سے وہ صفات بجائے خیر کے شر کا حکم پیدا کر لیتے ہیں۔چنانچہ ربوبیت کا ارادہ فنا اور اعدام کے ارادہ کے ساتھ مبدل ہو جاتا ہے۔اور رحمانیت کا ارادہ غضب اور سخط کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔اور رحیمیت کا ارادہ انتقام اور سخت گیری کے رنگ میں جوش مارتا ہے اور جزاء خیر کا ارادہ سزا اور تعذیب کی صورت میں اپنا ہولناک چہرہ دکھاتا ہے۔سو یہ تبدیلی خدا کی صفات میں انسان کی اپنی حالت کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔غرض چونکہ سزا دینا یا سزا کا وعدہ کرنا خدائے تعالیٰ کی ان صفات میں داخل نہیں جو اُمّ الصفات ہیں کیونکہ دراصل اس نے انسان کے لئے نیکی کا ارادہ کیا ہے۔اس لئے خدا کا وعید بھی جب تک انسان زندہ ہے اور اپنی تبدیلی کرنے پر قادر ہے فیصلہ ناطقہ نہیں ہے۔لہذا اس کے بر خلاف کرنا کذب یا عہد شکنی میں داخل نہیں۔اور گو بظاہر کوئی وعید شروط سے خالی ہو مگر اس کے ساتھ پوشیدہ طور پر ارادہ الہی میں شروط ہوتی ہیں بجز ایسے الہام کے جس میں ظاہر کیا جائے کہ اس کے ساتھ شروط نہیں ہیں۔پس ایسی صورت میں وہ قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے اور تقدیر مبرم قرار پا جاتا ہے۔یہ نکتہ معارف الہیہ میں سے نہایت قابل قدر اور جلیل الشان نکتہ ہے جو سورۃ فاتحہ میں مخفی رکھا گیا ہے۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۷ تا ۱۰ حاشیہ ) یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مکہ والوں نے آپ کی نری تکذیب نہیں کی تھی۔نری تکذیب سے جو محض سادگی کی بنا پر ہوتی ہے اس دنیا میں اللہ تعالیٰ سزا ئیں نہیں دیتا ہے۔لیکن جب مکذب شرافت اور انسانیت کی حدود سے نکل کر بے حیائی اور دریدہ دہنی سے اعتراض کرتا ہے اور اعتراضوں ہی کی حد تک نہیں رہتا بلکہ ہر قسم کی ایذاء دہی اور تکلیف رسانی کے منصوبے کرتا ہے اور پھر اس کو حد تک پہنچاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش میں آتی ہے اور اپنے مامور ومرسل کے لئے وہ ان ظالموں کو ہلاک کر دیتا ہے۔جیسے نوح کی قوم کو ہلاک کیا یا لوط کی قوم کو۔اس قسم کے عذاب ہمیشہ ان شرارتوں اور مظالم کی وجہ سے آتے ہیں جو خدا کے ماموروں اور ان کی جماعت پر کئے جاتے ہیں۔ورنہ نری تکذیب کی سزا اس عالم میں نہیں دی جاتی اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے اور اس نے ایک اور عالم عذاب کے لئے رکھا ہے۔عذاب جو آتے ہیں وہ تکذیب کو ایڈا کے درجہ تک پہنچانے سے آتے ہیں اور تکذیب کو استہزا اور ٹھٹھے کے رنگ میں کر دینے سے آتے ہیں۔اگر نرمی اور شرافت سے یہ کہا جاوے کہ میں نے اس معاملہ کو سمجھا نہیں اس لئے مجھے اس کے ماننے میں تامل ہے تو یہ انکار عذاب کو بھینچ لانے والا نہیں ہے