حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 354
١٠٣٦ اس دنیا میں عذاب قدیم سے الہی سنت اسی طرح پر ہے کہ جب تک کوئی کافر اور منکر نہایت درجہ کا بے باک اور شوخ ہو کر اپنے ہاتھ سے اپنے لئے اسباب ہلاکت پیدا نہ کرے تب تک خدا تعالیٰ تعذیب کے طور پر اس کو ہلاک نہیں کرتا۔اور جب کسی منکر پر عذاب نازل ہونے کا وقت آتا ہے تو اس میں وہ اسباب پیدا ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے اس پر حکم ہلاکت لکھا جاتا ہے۔عذاب الہی کے لئے یہی قانونِ قدیم ہے اور یہی سنت مستمرہ اور یہی غیر متبدل قاعدہ کتاب الہی نے بیان کیا ہے۔(انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳) قرآن کریم اور دوسری الہی کتابوں میں معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر لوگوں پر اسی دنیا میں عذاب کے طور پر موت اور ہلاکت وارد ہوئی وہ صرف اس لئے نہیں وارد ہوئی کہ وہ لوگ حیثیت مذہب کی وجہ سے ناحق پر تھے مثلاً بت پرست تھے یا ستارہ پرست یا آتش پرست یا کسی اور مخلوق کی پرستش کرتے تھے۔کیونکہ مذہبی ضلالت کا محاسبہ قیامت پر ڈالا گیا ہے اور صرف ناحق پر ہونے اور کافر ٹھہرانے سے اس دنیا میں کسی پر عذاب وارد نہیں ہو سکتا۔اس عذاب کے لئے جہنم اور دار آخرت بنایا گیا ہے۔بلکہ کافروں کے لئے یہ دنیا بطور بہشت کے ہے۔اور مومن ہی اکثر اس میں دُکھ اور درد اٹھاتے ہیں۔الدُّنْيَا جَنَّةُ الْكَافِرِ وَسِجُنُ الْمُؤْمِنِ۔پس اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس حالت میں دنیا جَنَّةُ الْكَافِر ہے اور مشاہدہ بھی اس پر شہادت دے رہا ہے کہ کفار ہر یک دنیوی نعمت اور دولت میں سبقت لے گئے ہیں اور قرآن کریم میں جا بجا اسی بات کا اظہار ہے کہ کافروں پر ہر یک دنیوی نعمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں تو پھر بعض کا فرقوموں پر عذاب کیوں نازل ہوئے اور خدا تعالیٰ نے ان کو پتھر اور آندھی اور طوفان اور وباء سے کیوں ہلاک کیا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام عذاب محض کفر کی وجہ سے نہیں ہوئے بلکہ جن پر یہ عذاب نازل ہوئے وہ تکذیب مرسل اور استہزاء اور ٹھٹھے اور ایذاء میں حد سے بڑھ گئے تھے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں ان کا فساد اور فسق اور ظلم اور آزار نہایت کو پہنچ گیا تھا اور انہوں نے اپنی ہلاکت کے لئے آپ سامان پیدا