حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 345
۱۰۲۷ شخصوں کے لئے لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ لے ہے۔اور اس کے بعد اُن کو کیا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ایسوں کا متولی ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ فرماتا ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّلِحِينَ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ پکڑتے ہیں۔اُن کی آنکھ ہو جاتا ہے جس سے وہ دیکھتے ہیں۔ان کے کان ہو جاتا ہے جن سے وہ سنتے ہیں اُن کے پاؤں ہو جاتا ہے۔جن سے وہ چلتے ہیں اور ایک اور حدیث میں ہے کہ جو میرے ولی کی دشمنی کرتا ہے۔میں اس سے کہتا ہوں کہ میرے مقابلہ کے لئے تیار رہو۔ایک جگہ فرمایا ہے کہ جب کوئی خدا کے ولی پر حملہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اُس پر ایسے جھپٹ کر آتا ہے جیسے ایک شیرنی سے کوئی اس کا بچہ چھینے تو وہ غضب سے جھپٹتی ہے۔الحکم، مورخه ۱۳ / فروری ۱۹۰۱ء صفحه ۲۸ - ملفوظات جلد دوم صفحه ۶۸۰ ، ۶۸۱ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) ہمیں اُس یار سے تقویٰ عطا ہے نہ یہ ہم سے کہ احسانِ خدا ہے کرو کوشش اگر صدق و صفا ہے کہ یہ حاصل ہو جو شرط لقا ہے ہے یہی اک جوہر سیف دعا ہے یہی آئینہ خالق نما ہر اگر اک نیکی کی جڑ جڑ رہی کچھ رہا یہی اک فخر شانِ اولیاء ہے بجز تقویٰ زیادت ان میں کیا ہے ڈرو یارو کہ وہ بینا خدا ہے اگر سوچو یہی دارالجزاء ہے مجھے تقویٰ سے اُس نے یہ جزا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ سنو! ہے حاصل اسلام تقویٰ خدا کا عشق کے اور جام تقویٰ بناؤ تام تقوی کہاں ایماں اگر ہے خام تقویٰ مسلمانو! دولت تو نے مجھ کو اے خدا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي در یمین اردو شائع کردہ نظارت اشاعت ربوه صفحه ۴۹٬۴۸ زیر عنوان بشیر احمد ، شریف احمد اور مبارکہ کی آمین ) البقرة: ٦٣ الاعراف: ۱۹۷ الہامی مصرعه