حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 338

۱۰۲۰ کے بعد ظہور میں آتا ہے اور قرآن شریف میں جو خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ یا آیا ہے اُس میں خدا کے مہر لگانے کے یہی معنے ہیں کہ جب انسان بدی کرتا ہے تو بدی کا نتیجہ اثر کے طور پر اس کے دل پر اور منہ پر خدا تعالیٰ ظاہر کر دیتا ہے۔اور یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ ہے یعنی جبکہ وہ حق سے پھر گئے تو خدا تعالیٰ نے اُن کے دل کو حق کی مناسبت سے ڈور ڈال دیا۔اور آخر کو معاندانہ جوش کے اثروں سے ایک عجیب کا یا پلٹ اُن میں ظہور میں آئی۔اور ایسے بگڑے کہ گویا وہ وہ نہ رہے اور رفتہ رفتہ نفسانی مخالفت کے زہر نے اُن کے انوار فطرت کو دبا لیا۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۷، ۴۸) آپ نے جبر قدر کا اعتراض پیش کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ قرآن سے جبر ثابت ہوتا ہے۔اس کے جواب میں واضح ہو کہ شاید آپ کی نظر سے یہ آیات نہیں گذریں جو انسان کے کسب و اختیار پر صریح دلالت کرتی ہیں اور یہ ہیں۔وَاَنْ لَّيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعی (س) ۲۷۔(۷) کہ انسان کو وہی ملتا ہے جو سعی کرتا ہے۔جو اُس نے کوشش کی ہو۔یعنی عمل کرنا اجر پانے کے لئے ضروری ہے۔پھر فرماتا ہے وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ (س ) یعنی خدا اگر لوگوں کے اعمال پر جو اپنے اختیار سے کرتے ہیں اُن کو پکڑتا تو کوئی زمین پر چلنے والا نہ چھوڑتا۔اور پھر فرماتا ہے لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ (س۳۔(۸) اس کے لئے جو اس نے اچھے کام کئے اور اُس پر جو اُس نے بُرے کام کئے۔پھر فرماتا ہے۔مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِه له (س۲۴ - (۶) جو شخص اچھا کام کرے سو اس کے لئے اور جو بُرا کرے وہ اس کے لئے۔پھر فرماتا ہے فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ - (س) ۹ - (1) یعنی کس طرح جس وقت پہنچے ان کو مصیبت بوجہ ان اعمال کے جو ان کے ہاتھ کر چکے ہیں۔اب دیکھیے ان تمام آیات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انسان اپنے کاموں میں اختیار بھی رکھتا ہے اور اس جگہ ڈپٹی صاحب نے جو یہ آیت پیش کی ہے يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ البقرة: ٨ الصف: ۶ لحم السجدة: ۴۷ ك النساء : ٦٣ النجم ۴۰ فاطر : ۴۶ ۵ البقرة: ۲۸۷ ال عمران:۱۵۵