حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 336
۱۰۱۸ قرآن شریف نے ان امور کو جن سے احمق معترضوں نے جبر کی تعلیم نکالی ہے محض اس عظیم الشان اصول کو قائم کرنے کے لئے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور ہر ایک امر کا مبدء اور مرجع وہی ہے۔وہی علت العلل اور مُسبب الاسباب ہے۔یہ غرض ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بعض درمیانی وسائط اُٹھا کر اپنے علت العلل ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔ورنہ قرآن شریف کو پڑھو اس میں بڑی صراحت کے ساتھ ان اسباب کو بھی بیان فرمایا جس کی وجہ سے انسان مکلف ہو سکتا ہے۔علاوہ بریں قرآن شریف جس حال میں اعمال بد کی سزا ٹھہراتا ہے اور حدود قائم کرتا ہے اگر قضاء وقدر میں کوئی تبدیلی ہونے والی نہ تھی اور انسان مجبور مطلق تھا تو ان حدود اور شرائع کی ضرورت ہی کیا تھی؟ پس یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن شریف دہریوں کی طرح تمام امور کو اسباب طبعیہ تک محدود رکھنا نہیں چاہتا بلکہ خالص تو حید پر پہنچانا چاہتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے دعا کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور نہ قضاء وقدر کے تعلقات کو جو دعا کے ساتھ ہیں تدبر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔جو لوگ دعا سے کام لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے لئے راہ کھول دیتا ہے۔وہ دعا کو رد نہیں کرتا۔ایک طرف دعا ہے دوسری طرف قضاء وقدر۔خدا نے ہر ایک کے لئے اپنے رنگ میں اوقات مقرر کر دیئے ہیں۔اور ربوبیت کے حصہ کو عبودیت میں دیا گیا ہے اور فرمایا ہے اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُمْ۔مجھے پکارو میں جواب دوں گا۔میں اسی لئے ہی کہا کرتا ہوں کہ ناطق خدا مسلمانوں کا ہے۔لیکن جس خدا نے کوئی ذرہ پیدا نہیں کیا یا جو خود یہودیوں سے طمانچے کھا کر مر گیا وہ کیا جواب دے گا۔تو کار زمین را نکو ساختی که با آسمان نیز پرداختی سے جبر اور قدر کے مسئلہ کو اپنی خیالی اور فرضی منطق کے معیار پر کسنا دانشمندی نہیں ہے اس سر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرنا بیہودہ ہے۔الوہیت اور ربوبیت کا کچھ تو ادب بھی چاہئے اور یہ راہ تو ادب کے خلاف ہے کہ الوہیت کے اسرار کو سمجھنے کی کوشش کی جاوے۔الطَّرِيقَةُ كُلُّهَا اَدَبٌ۔قضا و قدر کا دعا کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے۔دعا کے ساتھ معلق تقدیر مل جاتی ہے۔جب مشکلات پیدا ہوتے ہیں تو دعا ضرور اثر کرتی ہے۔جو لوگ دعا سے منکر ہیں اُن کو ایک دھوکا لگا ہوا ہے۔قرآن شریف نے دعا کے دو پہلو بیان کئے ہیں۔ایک پہلو میں اللہ تعالیٰ اپنی منوانا چاہتا ہے اور المؤمن: ٦١ ے کیا تو نے زمینی کاموں کو درست کر لیا ہے کہ آسمانی کاموں کی طرف بھی متوجہ ہو گیا ہے۔