حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 335
1+12 قضاء وقدر یادر ہے کہ اگر چہ قضاء و قدر میں سب کچھ مقرر ہو چکا ہے مگر قضاء وقدر نے علوم کو ضائع نہیں کیا۔سو جیسا که با وجود تسلیم مسئلہ قضا و قدر کے ہر ایک کو علمی تجارب کے ذریعہ سے ماننا پڑتا ہے کہ بے شک دواؤں میں خواص پوشیدہ ہیں اور اگر مرض کے مناسب حال کوئی دوا استعمال ہو تو خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے بے شک مریض کو فائدہ ہوتا ہے۔سو ایسا ہی علمی تجارب کے ذریعہ سے ہر ایک عارف کو ماننا پڑا ہے کہ دُعا کا قبولیت کے ساتھ ایک رشتہ ہے۔ہم اس راز کو معقولی طور پر دوسروں کے دلوں میں بٹھا سکیں یا نہ بٹھا سکیں مگر کروڑ ہا راستبازوں کے تجارب نے اور خود ہمارے تجربہ نے اس مخفی حقیقت کو ہمیں دکھلا دیا ہے کہ ہمارا دعا کرنا ایک قوت مقناطیسی رکھتا ہے۔اور فضل اور رحمت الہی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۴۰ ۲۴۱) قضاء وقدر در حقیقت ایک ایسی چیز ہے جس کے احاطہ سے باہر نکل جانا انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳) انسان تقدیر الہی کے ماتحت ہے۔اگر خدا کا ارادہ انسان کے ارادہ کے مطابق نہ ہو تو انسان ہزار جدو جہد کرے اپنے ارادہ کو پورا نہیں کر سکتا۔لیکن جب خدا کے ارادہ کا وقت آ جاتا ہے تو وہی امور جو بہت مشکل نظر آتے تھے نہایت آسانی سے میسر آ جاتے ہیں۔براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳) تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک کا نام معلق ہے اور دوسری کو مبرم کہتے ہیں۔اگر کوئی تقدیر معلق ہو تو دعا اور صدقات اس کو ٹلا دیتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس تقدیر کو بدل دیتا ہے اور مبرم ہونے کی صورت میں وہ صدقات اور دعا اس تقدیر کے متعلق کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ہاں وہ عبث اور فضول بھی نہیں رہتی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔وہ اُس دُعا اور صدقات کا اثر اور نتیجہ کسی دوسرے پیرائے میں اس کو پہنچا دیتا ہے۔بعض صورتوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا تعالی کسی تقدیر میں ایک وقت تک توقف اور تاخیر ڈال دیتا ہے۔قضائے معلق اور مبرم کا ماخذ اور پستہ قرآن کریم سے ملتا ہے۔الحکم مورخہ ۱۲ اپریل ۱۸۹۹ء صفحہ ۳ کالم نمبرا۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۰۰ اجدید ایڈیشن )