حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 328
1+1+ جواب ہے؟ حالانکہ آپ ہی کہتے ہیں کہ خدا رحم ہے اور اس کی سزا رحم سے خالی نہیں۔پھر جب موسیٰ کی لڑائیاں باوجود اس سختی کے قبول کی گئیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ٹھہریں تو کیوں اور کیا وجہ کہ یہ لڑائیاں جو الہی رحم کی خوشبو ساتھ رکھتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوئیں؟ اور ایسے لوگ کہ ان باتوں کو بھی خدا تعالیٰ کے احکام سمجھتے ہیں کہ شیر خوار بچے اُن کی ماؤں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں اور ماؤں کو اُن کے بچوں کے سامنے بے رحمی سے مارا جاوے وہ کیوں ان لڑائیوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ سمجھیں جن میں یہ شرط ہے کہ پہلے مظلوم ہو کر پھر ظالم کا مقابلہ کرو۔(آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۸۱ تا ۸۳ حاشیه ) اگر تلوار کے ذریعہ سے خدا کا عذاب نازل ہونا خدا کی صفات کے مخالف ہے تو کیوں نہ یہ اعتراض اول موسیٰ سے ہی شروع کیا جائے جس نے قوموں کو قتل کر کے خون کی نہریں بہادیں اور کسی کی تو بہ کو بھی قبول نہ کیا۔قرآنی جنگوں نے تو تو بہ کا دروازہ بھی کھلا رکھا جو عین قانونِ قدرت اور خدا کے رحم کے موافق ہے کیونکہ اب بھی جب خدا تعالیٰ طاعون اور ہیضہ وغیرہ سے اپنا عذاب دنیا پر نازل کرتا ہے تو ساتھ ہی طبیبوں کو ایسی ایسی بوٹیاں اور تدبیروں کا بھی علم دے دیتا ہے جس سے اس آتش وباء کا انسداد ہو سکے۔سو یہ موسیٰ کے طریق جنگ پر اعتراض ہے کہ اس میں قانون قدرت کے موافق کوئی طریق بچاؤ قائم نہیں کیا گیا۔ہاں بعض بعض جگہ قائم بھی کیا گیا ہے مگر کلی طور پر نہیں۔الغرض جبکہ یہ سنت اللہ یعنی تلوار سے ظالم منکروں کو ہلاک کرنا قدیم سے چلی آتی ہے تو قرآن شریف پر کیوں خصوصیت کے ساتھ اعتراض کیا جاتا ہے؟ کیا موسیٰ کے زمانہ میں خدا کوئی اور تھا؟ اور اسلام میں کوئی اور ہو گیا؟ یا خدا کو اُس وقت لڑائیاں پیاری لگتی تھیں اور اب بُری دکھائی دیتی ہیں؟ اور یہ بھی فرق یا درہے کہ اسلام نے صرف ان لوگوں کے مقابل پر تلوار اٹھانا حکم فرمایا ہے کہ جو اوّل آپ تلوار اُٹھا ئیں اور انہیں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جو اول آپ قتل کریں۔یہ حکم ہرگز نہیں دیا کہ تم ایک کافر بادشاہ کے تحت میں ہو کر اور اس کے عدل اور انصاف سے فائدہ اٹھا کر پھر اسی پر باغیانہ حملہ کرو۔قرآن کے رو سے یہ بدمعاشوں کا طریق ہے نہ نیکوں کا لیکن توریت نے یہ فرق کسی جگہ کھول کر بیان نہیں فرمایا۔اس سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف اپنے جلالی اور جمالی احکام میں اس خط مستقیم عدل اور انصاف اور رحم اور احسان پر چلتا ہے۔جس کی نظیر دنیا میں کسی کتاب میں موجود نہیں۔( انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۳۷) یادر ہے کہ ہمارے مخالفین کی یہ بڑی زبردستی ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ الہامی ہدایت ایسی ہونی