حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 320
أعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى البدر مورخہ ۸/ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ کے کالم نمبر ۳۔ملفوظات جلد سوم صفحه ۵۹۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) استغفار کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ موجودہ نور جو خدا سے حاصل ہوا ہے وہ محفوظ رہے اور زیادہ اور ملے اسی کی تحصیل کے لئے پنجگانہ نماز بھی ہے تا کہ ہر روز دل کھول کھول کر اس روشنی کو خدا سے مانگ لیوے۔جسے بصیرت ہے وہ جانتا ہے کہ نماز ایک معراج ہے اور وہ نماز ہی کی تضرع اور ابتہال سے بھری ہوئی دُعا ہے جس سے یہ امراض سے رہائی پاسکتا ہے۔البدر مورخه ۸/ستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۴،۳۔ملفوظات جلد چہارم صفحه ۹۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) جب کبھی ایسی حالت ہو کہ اُنس اور ذوق جو نماز میں آتا تھا وہ جاتا رہا ہے تو چاہئے کہ تھک نہ جاوے اور بے حوصلہ ہو کر ہمت نہ ہارے بلکہ بڑی مستعدی کے ساتھ اس گمشدہ متاع کو حاصل کرنے کی فکر کرے۔اور اس کا علاج ہے۔توبہ استغفار، تضرع، بے ذوقی سے ترک نماز نہ کرے بلکہ نماز کی اور کثرت کرے۔جیسے ایک نشہ باز کو جب نشہ نہیں آتا تو وہ نشہ کو چھوڑ نہیں دیتا بلکہ جام پر جام پیا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر اس کو لذت اور سرور آ جاتا ہے۔پس جس کو نماز میں بے ذوقی پیدا ہو اس کو کثرت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہئے اور تھکنا مناسب نہیں۔آخر اسی بے ذوقی میں ایک ذوق پیدا ہو جاوے گا۔دیکھو پانی کے لئے کس قدر زمین کو کھودنا پڑتا ہے۔جو لوگ تھک جاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں جو تھکتے نہیں وہ آخر نکال ہی لیتے ہیں۔اس لئے اس ذوق کو حاصل کرنے کے لئے استغفار، کثرت نماز و دعا مستعدی اور صبر کی ضرورت ہے۔الحکم، مورخہ ۳۱ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۹ کالم نمبر ۲ ،۳۔ملفوظات جلد سوم صفحه ۳۱۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) ہمارے غالب آنے کے ہتھیار استغفار، توبہ، دینی علوم کی واقفیت، خدا کی عظمت کو مدنظر رکھنا اور پانچوں وقت کی نمازوں کو ادا کرنا۔نماز دعا کی قبولیت کی کنجی ہے۔جب نماز پڑھو تو اس میں دعا کرو اور غفلت نہ کرو اور ہر ایک بدی سے خواہ وہ حقوق الہی کے متعلق ہو خواہ حقوق العباد کے متعلق ہو بچو۔(البدر مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۷ کالم نمبر ۳۔ملفوظات جلد سوم صفحه ۲۲۲،۲۲۱ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) انسان کی خدا ترسی کا اندازہ کرنے کے لئے اس کے التزام نماز کو دیکھنا کافی ہے کہ کس قدر ہے اور مجھے یقین ہے کہ جو شخص پورے پورے اہتمام سے نماز ادا کرتا ہے اور خوف اور بیماری اور فتنہ کی حالتیں بنی اسراءیل :۷۳