حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 319

1001 واسطے بولتا اور اس کو جواب دے کر تسلی دیتا ہے۔بھلا یہ بجر حقیقی نماز کے ممکن ہے؟ (الحکم، مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۷، ۸۔ملفوظات جلد سوم صفحه ۱۸۸ تا ۱۹۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) نماز اس وقت حقیقی نماز کہلاتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ سے سچا اور پاک تعلق ہو۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اطاعت میں اس حد تک فنا ہو اور یہاں تک دین کو دنیا پر مقدم کر لے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان تک دے دینے اور مرنے کے لئے تیار ہو جائے۔جب یہ حالت انسان میں پیدا ہو جائے اس وقت کہا جائے گا کہ اس کی نماز نماز ہے۔مگر جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہیں ہوتی اور سچا اخلاص اور وفاداری کا نمونہ نہیں دکھاتا اس وقت تک اس کی نمازیں اور دوسرے اعمال بے اثر ہیں۔(الحکم، مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۳ کالم نمبر۔ملفوظات جلد سوم صفحه ۵۰۱ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) نماز ایسے نہ ادا کرو جیسے مرغی دانے کے لئے ٹھونگ مارتی ہے بلکہ سوز و گداز سے ادا کرو۔اور دعائیں بہت کیا کرو۔نماز مشکلات کی کنجی ہے۔ماثورہ دعاؤں اور کلمات کے سوا اپنی مادری زبان میں بہت دُعا کیا کروتا اس سے سوز گداز کی تحریک ہو اور جب تک سوز و گداز نہ ہوا سے ترک مت کرو کیونکہ اس سے تزکیہ نفس ہوتا ہے اور سب کچھ ملتا ہے۔چاہیئے کہ نماز کی جس قدر جسمانی صورتیں ہیں ان سب کے ساتھ دل بھی ویسے ہی تابع ہو۔اگر جسمانی طور پر کھڑے ہو تو دل بھی خدا کی اطاعت کے لئے ویسے ہی کھڑا ہو۔اگر جھکو تو دل بھی ویسے ہی جھکے۔اگر سجدہ کرو تو دل بھی ویسے ہی سجدہ کرے۔دل کا سجدہ یہ ہے کہ کسی حال میں خدا کو نہ چھوڑے جب یہ حالت ہوگی تو گناہ دُور ہونے شروع ہو جاویں گے۔البدر مورخہ ۸/ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۶ ، ۷۔ملفوظات جلد سوم صفحه ۵۹۰،۵۸۹ جدید ایڈیشن) قرآن شریف میں دو جنتوں کا ذکر ہے۔ایک ان میں سے دنیا کی جنت ہے اور وہ نماز کی لذت ہے۔نماز خواہ نخواہ کا ٹیکس نہیں ہے بلکہ عبودیت کو ربوبیت سے ایک ابدی تعلق اور کشش ہے۔اس رشتہ کو قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے نماز بنائی ہے اور اس میں ایک لذت رکھ دی ہے۔جس سے یہ تعلق قائم رہتا ہے۔جیسے لڑکے اور لڑکی کی جب شادی ہوتی ہے اگر اُن کے ملاپ میں ایک لذت نہ ہو تو فساد ہوتا ہے ایسے ہی اگر نماز میں لذت نہ ہو تو وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔دروازہ بند کر کے دعا کرنی چاہئے کہ وہ رشتہ قائم رہے اور لذت پیدا ہو۔جو تعلق عبودیت کا ربوبیت سے ہے وہ بہت گہرا اور انوار سے پُر ہے جس کی تفصیل نہیں ہو سکتی جب وہ نہیں ہے تب تک انسان بہائم ہے۔اگر دو چار دفعہ بھی لذت محسوس ہو جائے تو اس چاشنی کا حصہ مل گیا۔لیکن جسے دو چار دفعہ بھی نہ ملا وہ اندھا ہے۔مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ