حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 318

جان ہے۔اللہ تعالیٰ کے فیض اسی نماز کے ذریعہ سے آتے ہیں۔سو اس کو سنوار کر ادا کرو۔تا کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کے وارث بنو۔الحکم، مورخہ، ار مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۸ کالم نمبر۲۔ملفوظات جلد سوم صفحه ۰۳ اجدید ایڈیشن) نماز کیا ہے؟ یہی کہ اپنے عجز نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔کبھی اس کی عظمت اور اس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدہ میں گر جانا۔اس سے اپنی حاجات کا مانگنا یہی نماز ہے۔ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے، تو ایسا ہے۔اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اس کی رحمت کو جنبش دلانا اور پھر اُس سے مانگتا۔پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے خدا کی محبت اُسی کا خوف اُسی کی یاد میں دل لگا رہنے کا نام نماز ہے۔اور یہی دین ہے۔پھر جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے اُس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا ؟ وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سور ہنا یہ تو دین ہرگز نہیں یہ سیرت کفار ہے۔جو شخص خدا سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے دربار میں پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے۔اس کے واسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہو کر وہ جلد تر پہنچ سکتا ہے اور جس نے نماز ترک کر دی وہ کیا پہنچے گا۔اصل میں مسلمانوں نے جب سے نماز کو ترک کیا یا اُسے دل کی تسکین آرام اور محبت سے اس کی حقیقت سے غافل ہو کر پڑھنا ترک کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی معرض زوال میں آئی ہے۔وہ زمانہ جس میں نمازیں سنوار کر پڑھی جاتی تھیں غور سے دیکھ لو کہ اسلام کے واسطے کیسا تھا۔ایک دفعہ تو اسلام نے تمام دنیا کو زیر پا کر دیا تھا۔جب سے اُسے ترک کیا وہ خود متروک ہو گئے ہیں۔درد دل سے پڑھی ہوئی نماز ہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکال لیتی ہے۔ہمارا بارہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جاتی ہے ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں کہ خدا نے اس امر کوحل اور آسان کر دیا ہوا ہوتا ہے۔نماز میں کیا ہوتا ہے یہی کہ عرض کرتا ہے التجاء کے ہاتھ بڑھاتا ہے اور دوسرا اس کی عرض کو اچھی طرح سنتا ہے۔پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جو سنتا ہے وہ بولتا ہے اور گذارش کرنے والے کو جواب دیتا ہے۔نمازی کا یہی حال ہے۔خدا کے آگے سر بیجھ درہتا ہے اور خدا کو اپنے مصائب اور حوائج سناتا ہے۔پھر آخر کچی اور حقیقی نماز کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک وقت جلد آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے جواب کے