حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 313
۹۹۵ غرض محبت سے بھری ہوئی یاد الہی جس کا نام نماز ہے وہ در حقیقت ان کی غذا ہو جاتی ہے جس کے درحق بغیر وہ جی ہی نہیں سکتے۔اور جس کی محافظت اور نگہبانی بعینہ اس مسافر کی طرح وہ کرتے رہتے ہیں جو ایک دشت بے آب و دانہ میں اپنی چند روٹیوں کی محافظت کرتا ہے جو اس کے پاس ہیں اور اپنے کسی قدر پانی کو جان کے ساتھ رکھتا ہے جو اس کی مشک میں ہے۔واہب مطلق نے انسان کی روحانی ترقیات کے لئے یہ بھی ایک مرتبہ رکھا ہوا ہے جو محبت ذاتی اور عشق کے غلبہ اور استیلاء کا آخری مرتبہ ہے اور در حقیقت اس مرتبہ پر انسان کے لئے محبت سے بھری ہوئی یاد الہی جس کا شرعی اصطلاح میں نماز نام ہے غذا کے قائم مقام ہو جاتی ہے بلکہ وہ بار بار جسمانی روح کو بھی اس غذا پر فدا کرنا چاہتا ہے۔وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا جیسا کہ مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی۔اور خدا سے علیحدہ ایک دم بھی بسر کرنا اپنی موت سمجھتا ہے اور اس کی روح آستانہ الہی پر ہر وقت سجدہ میں رہتی ہے اور تمام آرام اُس کا خدا ہی میں ہو جاتا ہے۔اور اس کو یقین ہوتا ہے کہ میں اگر ایک طرفتہ العین بھی یا دالہی سے الگ ہوا تو بس میں مرا۔اور جس طرح روٹی سے جسم میں تازگی اور آنکھ اور کان وغیرہ اعضاء کی قوتوں میں توانائی آجاتی ہے اسی طرح اس مرتبہ پر یاد الہی جو عشق اور محبت کے جوش سے ہوتی ہے مومن کی روحانی قوتوں کو ترقی دیتی ہے۔یعنی آنکھ میں قوت کشف نہایت صاف اور لطیف طور پر پیدا ہو جاتی ہے اور کان خدا تعالیٰ کے کلام کو سنتے ہیں۔اور زبان پر وہ کلام نہایت لذیذ اور اجلی اور اصنفی طور پر جاری ہو جاتا ہے۔اور رویا صادقہ بکثرت ہوتے ہیں جو فلق صبح کی طرح ظہور میں آ جاتے ہیں۔اور بباعث علاقہ صافیہ محبت جو حضرت عزت سے ہوتا ہے مبشر خوابوں سے بہت سا حصہ ان کو ملتا ہے۔یہی وہ مرتبہ ہے جس مرتبہ پر مومن کو محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی محبت اس کے لئے روٹی اور پانی کا کام دیتی ہے۔یہ نئی پیدائش اس وقت ہوتی ہے جب پہلے رُوحانی قالب تمام تیار ہو چکتا ہے۔اور پھر وہ رُوح جو محبت ذاتیہ الہیہ کا ایک شعلہ ہے ایسے مومن کے دل پر آپڑتا ہے اور یک دفعہ طاقت بالا نشیمن بشریت سے بلند تر اس کو لے جاتی ہے۔اور یہ مرتبہ وہ ہے جس کو روحانی طور پر خلق آخر کہتے ہیں۔اس مرتبہ پر خدا تعالیٰ اپنی ذاتی محبت کا ایک افروختہ شعلہ جس کو دوسرے لفظوں میں روح کہتے ہیں مومن کے دل پر نازل کرتا ہے اور اس سے تمام تاریکیوں اور آلائشوں اور کمزوریوں کو دُور کر دیتا ہے۔اور اس روح کے پھونکنے کے ساتھ کر دیا ہی وہ حسن جواد نی مرتبہ پر تھا کمال کو پہنچ جاتا ہے اور ایک رُوحانی آب و تاب پیدا ہو جاتی ہے اور گندی زندگی کی کبودگی بکلی دور ہو جاتی ہے۔اور مومن اپنے اندر محسوس کر لیتا ہے کہ ایک نئی روح اس کے اندر