حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 311
۹۹۳ ہو جاؤ اور ایسے کاربند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح ، تمہاری روح کے ارادے اور جذ بے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں۔الحکم ۱۲ را پریل ۱۸۹۹ء صفحہ سے کالم ۲۔ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۰۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) نماز کیا چیز ہے؟ نماز اصل میں رب العزت سے دُعا ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔اور نہ عافیت اور خوشی کا سامان مل سکتا ہے۔جب خدا تعالیٰ اس پر اپنا فضل کرے گا اُس وقت اُسے حقیقی سرور اور راحت ملے گی۔اس وقت سے اس کو نمازوں میں لذت اور ذوق آنے لگے گا جس طرح لذیذ غذاؤں کے کھانے سے مزہ آتا ہے اسی طرح پھر گریہ و بکا کی لذت آئے گی اور یہ حالت جو نماز کی ہے پیدا ہو جائے گی۔اس سے پہلے جیسے کڑوی دوا کو کھاتا ہے تا کہ صحت حاصل ہو اسی طرح اس بے ذوقی نماز کو پڑھنا اور دعائیں مانگنا ضروری ہیں۔اس بے ذوقی کی حالت میں یہ فرض کر کے کہ اس سے لذت اور ذوق پیدا ہو یہ دعا کرے کہ۔”اے اللہ ! تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نابینا ہوں اور میں اس وقت بالکل مُردہ حالت میں ہوں۔میں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو میں تیری طرف آ جاؤں گا اُس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گا لیکن میرا دل اندھا اور ناشناسا ہے۔تو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا اُنس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے۔تو ایسا فضل کر کہ میں نابینا نہ اُٹھوں اور اندھوں میں نہ جاملوں۔“ جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اُس پر آئے گا کہ اسی بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اُس پر گرے گی جو رقت پیدا کر دے گی۔الحکم مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ا کالم نمبر ۳۔ملفوظات جلد دوم صفحہ ۶۱۵ ،۶۱۶ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ہے یعنی چھٹے درجہ کے مومن جو پانچویں درجہ سے بڑھ گئے ہیں وہ ہیں جو اپنی نمازوں پر آپ محافظ اور نگہبان ہیں یعنی وہ کسی دوسرے کی تذکیر اور یاددہانی کے محتاج نہیں رہے بلکہ کچھ ایسا تعلق ان کو خدا سے پیدا ہو گیا ہے اور خدا کی یاد کچھ اس قسم کی محبوب طبع اور مدار آرام اور مدار زندگی ان کے لئے ہو گئی ہے وہ ہر وقت اُس کی نگہبانی میں لگے رہتے ہیں اور ہر دم ان کا یاد الہی میں گذرتا ہے اور نہیں چاہتے کہ ایک دم بھی خدا کے ذکر سے الگ ہوں۔ل المؤمنون: ١٠