حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 310

۹۹۲ ہوتے۔باوجود انسان کی خواہش کے کہ وہ پاک ہو جاوے نفس تو امہ کی لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔گناہوں سے پاک کرنا خدا کا کام ہے۔اُس کے سوائے کوئی طاقت نہیں جو زور کے ساتھ تمہیں پاک کر دے۔پس پاک جذبات کے پیدا کرنے کے واسطے خدا تعالیٰ نے نماز رکھی ہے۔نماز کیا ہے ایک دُعا جو درد، سوزش اور حرفت کے ساتھ خدا تعالیٰ سے طلب کی جاتی ہے تا کہ یہ بد خیالات اور بُرے ارادے دفع ہو جاویں۔اور پاک محبت اور پاک تعلق حاصل ہو جائے اور خدا تعالیٰ کے احکام کے ماتحت چلنا نصیب ہو۔صلوٰۃ کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دعا صرف زبان سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ سوزش اور جلن اور حرقت کا ہونا بھی ضروری ہے۔خدا تعالیٰ دعا کو قبول نہیں کرتا جب تک انسان حالت دعا میں ایک موت تک نہیں پہنچتا۔۔۔۔نماز بڑے بھارے درجہ کی دعا ہے مگر لوگ اس کی قدر نہیں کرتے۔اس زمانہ میں مسلمان ورد وظائف کی طرف متوجہ ہیں۔کئی ایک فرقے ہیں جیسا کہ نوشاہی اور نقشبندی وغیرہ افسوس ہے کہ ان میں سے کوئی بدعات کی آمیزش سے خالی نہیں۔یہ لوگ نماز کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔احکام الہی کی ہجو کرتے ہیں۔طالب کے واسطے نماز کے ہوتے ہوئے ان بدعات میں سے کسی کی ضرورت نہیں۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریق تھا کہ مشکلات کے وقت میں وضو کر کے نماز میں کھڑے ہو جاتے تھے اور نماز میں دُعا کرتے تھے۔ہمارا تجربہ ہے کہ خدا کے قریب لے جانے والی کوئی چیز نماز سے زیادہ نہیں۔نماز کے اجزاء اپنے اندر ادب خاکساری اور انکساری کا اظہار رکھتے ہیں۔قیام میں نمازی دست بستہ کھڑا ہوتا ہے جیسا کہ ایک غلام اپنے آقا اور بادشاہ کے سامنے طریق ادب سے کھڑا ہوتا ہے۔رکوع میں انسان انکسار کے ساتھ جھک جاتا ہے۔سب سے بڑا انکسار سجدہ میں ہے جو بہت ہی عاجزی کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔(البدر، مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحه ۱۲ کالم ۱ تا ۳) نمازوں کو باقاعدہ التزام سے پڑھو۔کبھی لوگ صرف ایک ہی وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔نمازیں معاف نہیں ہوتیں۔پیغمبروں کو بھی معاف نہیں ہوئیں۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نئی جماعت آئی انہوں نے نماز کی معافی چاہی۔آپ نے فرمایا کہ جس مذہب میں عمل نہیں وہ مذہب کچھ نہیں۔(رسالہ الانذار صفحہ اے۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۷۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کار بند