حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 306

۹۸۸ سے نہ نکالے گئے اور بجائے اس کے لفظ برادر قائم نہ ہوا۔ایسا ہی جب تک تمام قوموں کا یہ استحقاق تسلیم نہ کیا گیا کہ وہ ایک ہی نوع یا جنس کے ہیں اس وقت تک ہمارے اس علم اللسان کا آغاز نہ ہوا۔اقول صاحب راقم کی اس تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل اُن کو اہل عرب پر اعتراض ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ عرب کے لوگ جو دوسری زبان والوں کو بھی بولتے ہیں یہ لفظ محض بخل اور تعصب کے راہ سے دوسری قوموں کی تحقیر کی غرض سے تراشا گیا ہے۔لیکن یہ غلطی محض اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ اُن کی عیسائیت کا بخل ان کو اس بات کی دریافت سے مانع ہوا کہ آیا عجم اور عرب کا لفظ انسان کی طرف سے یا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔حالانکہ وہ اپنی کتاب میں خود اقرار کر چکے ہیں کہ مفردات زبان کا اپنی طرف سے بنا لینا کسی انسان کا کام نہیں۔اب ہم ان پر اور اُن کے ہم خیالوں پر واضح کرتے ہیں کہ زبان عرب میں دو لفظ ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل پر واقع ہیں۔ایک تو عرب جس کے معنے فصیح اور بلیغ کے ہیں اور دوسرا مجم جو اس کے مقابل پر واقع ہے جس کے معنے غیر فصیح اور بستہ زبان ہے۔اگر میکس ملر صاحب کے خیال میں یہ دو لفظ قدیم نہیں ہیں اور اسلام نے ہی بخل کے راہ سے ان کو ایجاد کیا ہے تو ان کو ان لفظوں کا نشان دینا چاہئے جو ان کی رائے میں اصلی لفظ تھے کیونکہ یہ تو ممکن نہیں کہ کسی قوم کا قدیم سے کوئی بھی نام نہ ہو۔اور جب قدیم ماننا پڑا تو ثابت ہوا کہ یہ انسانی بناوٹ نہیں بلکہ وہ قادر عالم الغیب جس نے مختلف استعدادوں کے ساتھ انسانوں کو پیدا کیا ہے اُس نے مختلف لیا قتوں کے لحاظ سے یہ دو نام آپ مقرر کر دیئے ہیں۔پھر دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ اگر یہ دو نام عرب اور عجم کسی انسان نے محض تعصب اور تحقیر کے لحاظ سے آپ ہی گھڑ لئے ہیں تو بلاشبہ یہ واقعات کے برخلاف ہوں گے اور محض دروغ بے فروغ ہوگا۔لیکن ہم اس کتاب میں ثابت کر چکے ہیں کہ عرب کا لفظ در حقیقت اسم باسمی ہے اور واقعی طور پر یہ بات سچ ہے کہ زبان عربی اپنے نظام مفردات اور لطافت ترکیب اور دیگر عجائب وغرائب کے لحاظ سے ایسے اعلیٰ مقام کے مرتبہ پر ہے کہ یہی کہنا پڑتا ہے کہ دوسری زبانیں اس کے مقابل پر گونگے کی طرح ہیں۔اور نہ صرف یہی بلکہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری تمام زبانیں جمادات کی طرح بے حس و حرکت پڑی ہیں اور اطراد مواد کی حرکت ایسی اُن سے مفقود ہے کہ گویا وہ بالکل بے جان ہیں تو ہمیں بمجبوری یہ ماننا پڑتا ہے کہ درحقیقت وہ زبانیں نہایت تنزل کی حالت میں ہیں۔اور عربی زبان میں یہ بات نہایت نرم لفظوں میں کہی گئی ہے کہ عرب کے مقابل کے لوگوں کا نام عجم ہے ورنہ اس نام کا استحقاق بھی ان زبانوں