حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 297
۹۷۹ کہ وہی ایک زبان ہے جو حقیقی طور پر اس لائق ٹھہرائی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کا اعلیٰ اور اکمل الہام اسی میں نازل ہو اور دوسرے الہام اس الہام کی ایسی ہی فرع ہیں جیسا کہ دوسری بولیاں اس بولی کی فرع ہیں۔الہذا ہم اس بحث کے بعد اس بحث کو لکھیں گے کہ وہ حقیقی اور کامل اور اتم اور اکمل وحی جو دنیا میں آنے والی تھی وہ صرف قرآن شریف ہے۔اور انہیں مقدمات سے اس نتیجہ کو بہ تفصیل ظاہر کریں گے کہ عربی کو ام الالسنہ اور الہامی ماننے سے نہ صرف یہی ماننا پڑتا ہے کہ قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے بلکہ یہ بھی ضروری طور پر ماننا پڑتا ہے کہ صرف قرآن ہی ہے جس کو حقیقی وحی اور اکمل اور اتم اور خاتم الکتب کہنا چاہئے اور اب ہم مفردات کا نظام دکھلانے کے لئے اور نیز دوسری خوبیوں کے لحاظ سے اس کتاب کا عربی حصہ شروع کریں گے۔وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيم منن الرحمن۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۲۸ تا۱۴۲) اس نہایت مفید قاعدہ کا لکھنا واجبات سے ہے کہ صحیفہ قدرت پر نظر ڈالنے سے یہ بات ضروری طور پر ماننی پڑتی ہے کہ جو چیزیں خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے پیدا ہوئیں یا اس سے صادر ہوئیں ان کی اوّل علامت یہی ہے کہ اپنے اپنے مرتبہ کے موافق خدا شناسی کے راہوں کے خادم ہوں۔اور اپنے وجود کی اصلی غرض بزبانِ قال یا حال یہی ظاہر کریں کہ وہ معرفت باری کا ذریعہ اور اسی کے راہ کے خادم ہیں۔کیونکہ تمام مخلوقات کی افراد پر نظر غور ڈالنے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ کائنات کا تمام سلسلہ انواع اقسام کے پیرائیوں میں اسی کام میں لگا ہوا ہے کہ تا وہ خدا تعالیٰ کے پہچاننے اور اس کی راہوں کے جاننے میں ایک ذریعہ ہو پس چونکہ عربی زبان خدا تعالیٰ سے صادر ہوئی اور اس کے منہ سے نکلی ہے لہذا ضرور تھا کہ اس میں بھی یہ علامت موجود ہوتا یقینی طور پر شناخت کیا جائے کہ وہ فی الواقعہ ان چیزوں میں سے ہے کہ جو بغیر ذریعہ انسانی کوششوں کے محض خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر ہوئی ہیں۔سو الحمد لله و المنه کہ عربی زبان میں یہ علامت نہایت بدیہی اور صاف طور پر پائی جاتی ہے۔اور جیسا کہ انسان کی اور قویٰ کی نسبت مضمون آیت وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ا ثابت ومتحقق ہے۔اسی طرح عربی زبان میں جو انسان کی اصلی زبان اور اُس کی جز وخلقت ہے یہی حقیقت ثابت ہے۔اس میں کیا شک ہے کہ انسان کی خلقت اُسی حالت میں اتم اور اکمل ٹھہر سکتی ہے کہ جب کلام کی خلقت بھی اس میں داخل ہو کیونکہ وہ چیز جو انسانیت کے جوہر کی چہرہ نما ہے وہ کلام ہی ہے اور کچھ مبالغہ نہ ہوگا اگر ہم یہ کہیں کہ انسانیت سے مراد یہی نطق اپنے تمام لوازم کے ساتھ ہے۔پس خدا تعالی کا یہ فرمانا کہ الذريت: ۵۷