حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 296

۹۷۸ انسانی خیالات کو الفاظ کے قالب میں ڈھالنے کے وقت پورا ذخیرہ مفردات کا اپنے اندر رکھتی ہو ایسے طور سے کہ جب انسان مثلاً ایک توحید کے مضمون کے متعلق یا شرک کے مضمون کے متعلق یا حقوق اللہ کے متعلق یا حقوق عباد کے متعلق یا عقائد دینیہ کے متعلق یا ان کے دلائل کے متعلق یا محبت اور مخالطت کے متعلق یا بغض اور نفرت کے متعلق یا خدا تعالیٰ کی مدح اور ثناء اور اس کے اسماء مطہرہ کے متعلق یا مذاہب باطلہ کے رڈ کے متعلق یا فقص اور سوانح کے متعلق یا احکام اور حدود کے متعلق یا علم معاد کے متعلق یا تجارت اور زراعت اور نوکری کے متعلق یا نجوم اور ہیئت کے متعلق یا طبعی اور طبابت اور منطق وغیرہ کے متعلق کوئی مبسوط کلام کرنا چاہے تو اس زبان کے مفردات اس کو ایسے طور سے مدد دے سکیں کہ ہر یک خیال کے مقابل پر جو دل میں پیدا ہو ایک لفظ مفرد موجود ہو تا یہ امر اس بات پر دلیل ہو کہ جس ذات کامل نے انسان اور اس کے خیالات کو پیدا کیا اُسی نے ان خیالات کے ادا کرنے کے لئے قدیم سے وہ مفردات بھی پیدا کر دیے۔اور ہمارا دلی انصاف اس بات کے قبول کرنے کے لئے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ اگر یہ خصوصیت کسی زبان میں پائی جائے کہ وہ زبان انسانی خیالات کے قد و قامت کے موافق مفردات کا خوبصورت پیرا یہ اپنے اندر طیار رکھتی ہے اور ہر یک باریک فرق جو افعال میں پایا جاتا ہے وہی باریک فرق اقوال کے ذریعہ سے دکھاتی ہے اور اس کے مفردات خیالات کے تمام حاجتوں کے متکفل ہیں تو وہ زبان بلاشبہ الہامی ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے جو اس نے انسان کو ہزار ہا طور کے خیالات ظاہر کرنے کے لئے مستعد پیدا کیا ہے۔پس ضرور تھا کہ انہیں خیالات کے اندازہ کے موافق اس کو ذخیرہ قولی مفردات بھی دیا جاتا تا خدا تعالیٰ کا قول اور فعل ایک ہی مرتبہ پر ہولیکن حاجت کے وقت ترکیب سے کام لینا یہ بات کسی خاص زبان سے خصوصیت نہیں رکھتی۔ہزار ہا زبانوں پر یہ عام آفت اور نقص در پیش ہے کہ وہ مفردات کی جگہ مرکبات سے کام لیتے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ ضرورتوں کے وقت وہ مرکبات انسانوں نے خود بنالئے ہیں۔پس جو زبان ان آفتوں سے محفوظ ہوگی اور اپنی ذات میں مفردات سے کام نکالنے کی خصوصیت رکھے گی اور اپنے اقوال کو خدا تعالیٰ کے فعل کے مطابق یعنی خیالات کے جوشوں کے مطابق اور ان کے ہموزن دکھلائے گی بلاشبہ وہ ایک خارق العادات مرتبہ پر ہو کر اور تمام زبانوں کی نسبت ایک خصوصیت پیدا کر کے اس لائق ہو جائے گی کہ اس کو اصل الہامی زبان اور فطرت اللہ کہا جائے اور جو زبان اس مرتبہ عالیہ سے مخصوص ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کے منہ سے نکلی اور فوق العادات کمالات سے مختص اور اُم الالسنہ ہے اس کی نسبت یہ کہنا ایمانداری کا فرض ہوگا