حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 295

۹۷۷ پانچ خوبیاں ہیں۔جو مفصلہ ذیل ہیں :۔پہلی خوبی۔عربی کے مفردات کا نظام کامل ہے۔یعنی انسانی ضرورتوں کو وہ مفردات پوری مدد دیتے ہیں۔دوسرے لغات اس سے بے بہرہ ہیں۔دوسری خوبی عربی میں اسماء باری و اسماء ارکان عالم و نباتات و حیوانات و جمادات و اعضائے انسان اپنی اپنی وجہ تسمیہ میں بڑے بڑے علوم حکمیہ پر مشتمل ہیں۔دوسری زبانیں ہرگز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔تیسری خوبی عربی کا اطراد مواد الفاظ بھی پورا نظام رکھتا ہے اور اس نظام کا دائرہ تمام افعال اور اسماء کو جو ایک ہی مادہ کے ہیں۔ایک سلسلہ حکمیہ میں داخل کر کے اُن کے باہمی تعلقات دکھلاتا ہے اور یہ بات اس کمال کے ساتھ دوسری زبانوں میں پائی نہیں جاتی۔چوتھی خوبی عربی کے تراکیب میں الفاظ کم اور معانی زیادہ ہیں یعنی زبان عربی الف لام اور تنو مینوں اور تقدیم تاخیر سے وہ کام نکالتی ہے جس میں دوسری زبانیں کئی فقروں کے جوڑنے کی محتاج ہوتی ہیں۔پانچویں خوبی عربی زبان ایسے مفردات اور تراکیب اپنے ساتھ رکھتی ہے جو انسان کے تمام باریک در بار یک ضمائر اور خیالات کا نقشہ کھینچنے کے لئے کامل وسائل ہیں۔اب چونکہ یہ بھاری ثبوت ہمارے ذمہ ہے کہ ہم عربی کے مفردات کا ایسا نظام کامل ثابت کریں جو دوسری کتا بیں اس کے مقابلہ سے عاجز رہیں اور نیز اس کی باقی چار خوبیوں کو بھی اسی طرح بپایہ ثبوت پہنچاویں۔لہذا ہمارے لئے ضروری ہوا کہ ہم ان مباحث کو عربی زبان میں ہی لکھیں۔کیونکہ ہمارا یہ فرض ہے کہ یہ تمام خوبیاں مخالف کو دکھلا دیں اور اگر وہ کسی اور زبان کو الہامی اور اُم الالسنہ قرار دیتا ہے تو اس سے ان خوبیوں کا مطالبہ کریں۔۔اگر ہم اس دعوے میں کا ذب ہیں کہ عربی میں وہ پانچ فضائل خصوصیت کے ساتھ موجود ہیں جو ہم لکھ چکے ہیں اور کوئی سنسکرت دان وغیرہ اس بات کو ثابت کر سکتا ہے کہ ان کی زبان بھی ان فضائل میں عربی کی شریک و مساوی ہے یا اس پر غالب ہے تو ہم اس کو پانچ ہزار روپیہ بلا توقف دینے کے لئے قطعی اور حتمی وعدہ کرتے ہیں۔۔اس وقت ہم غیر زبان والوں سے کیا مانگتے ہیں۔صرف یہی کہ وہ یہ خوبیاں جو ہم نے زبان عربی میں ثابت کی ہیں اپنی زبان میں ثابت کر کے دکھلاویں۔مثلاً یہ بات ظاہر ہے کہ کامل زبان کے لئے مفردات کا کامل نظام ضروری ہے۔یعنی یہ واجبات سے ہے کہ کامل زبان جو الہامی اور ام الالسنہ کہلاتی ہے