حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 294
قادر نہیں ہو سکتے جیسے انسانوں میں ملکوں کے اختلاف سے رنگوں کا اختلاف، عمروں کا اختلاف، اخلاق کا اختلاف، امراض کا اختلاف ایک ضروری امر ہے۔ایسا ہی یہ اختلاف بھی ضرور ہے۔کیونکہ انہیں مؤثرات کے نیچے زبانوں کا بھی اختلاف ہے۔پس یہ خیال ایک دھوکا ہے کہ یہ اختلاف کیوں ہزا رہا برس سے ایک ہی حد تک رہا۔اس سے آگے نہ بڑھا۔کیونکہ مؤثرات نے جس قدر اختلاف کو چاہا اسی قدر ہوا اس سے زیادہ کیونکر ہو سکتا۔یہ ایسا ہی سوال ہے جیسا کہ کوئی کہے کہ اختلاف امکنہ میں رنگوں اور عمروں اور مرضوں اور اخلاق کا اختلاف ہو گیا۔یہ کیوں نہ ہوا کہ کسی جگہ ایک آنکھ کی جگہ دس آنکھ ہو جاتیں۔سو ایسے وہم کا بجز اس کے ہم کیا جواب دے سکتے ہیں کہ یہ اختلاف یوں ہی بے قاعدہ نہیں تھا۔بلکہ ایک طبیعی قاعدہ کے نیچے تھا۔سو جس قدر قاعدہ نے تقاضا کیا اُسی قدر اختلاف بھی ہوا۔غرض جو کچھ مؤثرات سماوی ارضی کی وجہ سے انسان کی بناوٹ خلق یا خیالات کی طبیعی رفتار میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے وہ تبدیلی بالضرورت سلسلہ کلمات میں تبدیلی ڈالتی ہے۔لہذا وہ طبعا اختلاف پیدا کرنے کے لئے مجبور ہوتی ہیں۔اور اگر کوئی دوسری زبان کا لفظ ان کے زبان میں پہنچے تو وہ عمداً اس میں بہت کچھ تبدیلی کر دیتے ہیں۔پس یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ اپنی خلقت کے لحاظ سے جو مؤثرات ارضی سماوی سے متاثر ہے فطرتا تبدیل کے محتاج ہیں۔ماسوا اس کے عیسائیوں اور یہودیوں کو تو ضرور یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ اُم الالسنہ عربی ہے کیونکہ توریت کی نص صریح سے یہ بات ثابت ہے کہ ابتداء میں بولی ایک ہی تھی۔اگر یہ اعتراض پیش ہو کہ زبان عربی جو اُم الالسنہ قرار دی گئی ہے اس کی نسبت تمام زبانوں کی نسبت مساوی نہیں ہے بلکہ بعض سے کم اور بعض سے زیادہ ہے۔مثلاً عبری زبان پر ادنیٰ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تھوڑے سے تغیر کے بعد عربی زبان ہی ہے لیکن سنسکرت یا یورپ کی زبانوں کے ساتھ وہ تعلق پایا نہیں جاتا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ گو عبری اور دوسری شاخیں اس کی درحقیقت عربی کے تھوڑے سے تغیر سے پیدا ہوئی ہیں اور سنسکرت وغیرہ دنیا کی کل زبانیں تغیرات بعیدہ سے نکلی ہیں تاہم کامل غور کرنے اور قواعد پر نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ ان زبانوں کے کلمات اور الفاظ مفردہ عربی سے ہی بدلا کر طرح طرح کے قالبوں میں لائے گئے ہیں۔اور عربی کے فضائل خاصہ سے جو اسی زبان سے خصوصیت رکھتے ہیں جن کی ہم انشا اللہ اپنے اپنے محل پر تشریح کریں گے اور جو اس کے اُم الالسنہ اور کامل اور الہامی زبان ہونے پر قطعی دلیل ہے