حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 293
۹۷۵ جو زبان نے کرنا تھا۔یعنی اس بات پر قادر ہوتا ہے کہ باریک باریک اشارات سے مخاطب کو سمجھاوے۔یہی طریق زبان عربی کے عادات میں سے ہے۔یعنی یہ زبان کبھی الف لام تعریف سے وہ کام نکالتی ہے جس میں دوسری زبانیں چند لفظوں کی محتاج ہوتی ہیں اور کبھی صرف تنوین سے ایسا کام لیتی ہے جو دوسری زبانیں طولانی فقروں سے بھی پورا نہیں کر سکتیں۔ایسا ہی زیر و زبر و پیش بھی الفاظ کا ایسا کام دے جاتے ہیں کہ ممکن نہیں کہ کوئی دوسری زبان بغیر چند فضول فقروں کے ان کا مقابلہ کر سکے۔اس کے بعض لفظ بھی با وجود بہت چھوٹے ہونے کے ایسے لمبے معنے رکھتے ہیں کہ نہایت حیرت ہوتی ہے کہ یہ معنے کہاں سے نکلے۔مثلاً عَرَضْتُ کے یہ معنے ہیں کہ میں مکہ اور مدینہ اور جو ان کے گردد یہات ہیں سب دیکھ آیا۔اور طَهْفَلْتُ کے یہ معنے ہیں کہ میں چینے کی روٹی کھاتا ہوں اور ہمیشہ چینے کی روٹی کھانے کا عہد کر چکا ہوں۔اور عربی کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اور متفرق زبانوں میں جس قدر خواص ہیں اس میں وہ سب جمع ہیں۔پس جبکہ غور کرنے اور پوری پوری خوض اور عمیق تحقیقات کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت زبان عربی تمام زبانوں کے خواص متفرقہ کی جامع ہے تو اس سے بالضرورت ماننا پڑتا ہے کہ تمام زبانیں عربی کی ہی فروعات ہیں۔بعض لوگ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر تمام زبانوں کی جڑ اور اصل ایک ہی زبان کو تسلیم کیا جائے تو عقل اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ صرف تین چار ہزار برس تک ایسی زبانوں میں جو ایک ہی اصل سے نکلی تھیں اس قدر فرق ظاہر ہو گیا ہو۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض در حقیقت از قبیل بنیاد فاسد بر فاسد ہے ورنہ یہ بات قطعی طور پر طے شدہ نہیں کہ عمر دنیا کی صرف چار یا پانچ ہزار برس تک گذری ہے اور پہلے اس سے زمین و آسمان کا نام ونشان نہ تھا۔بلکہ نظر عمیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا ایک مدت دراز سے آباد ہے۔ماسوا اس کے اختلاف السنہ کے لئے صرف باہمی بعد زماں یا مکاں سبب نہیں بلکہ اس کا ایک قوی سبب یہ بھی ہے کہ خط استوا کے قُرب یا بعد اور ستاروں کی ایک خاص وضع کی تاثیر اور دوسرے نامعلوم اسباب سے ہر یک قسم کی زمین اپنے باشندوں کی فطرت کو ایک خاص حلق اور لہجہ اور صورت تلفظ کی طرف میلان دیتی ہے اور وہی محرک رفتہ رفتہ ایک خاص وضع کلام کی طرف لے آتا ہے۔اسی وجہ سے دیکھا جاتا ہے کہ بعض ملک کے لوگ حرف زا بولنے پر قادر نہیں ہو سکتے اور بعض را بولنے پر