حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 292

۹۷۴ کا منجانب اللہ ہونا اور سب کتابوں پر میمن ہونا مانا پڑا ور نہ دوسری کتابیں بھی باطل ٹھہریں گی۔لہذا میں نے اسی غرض سے اس کتاب کو لکھا ہے کہ تا اول بعونه تعالی تمام زبانوں کا اشتراک ثابت کروں اور پھر بعد ازاں زبان عربی کے اُم الالسنہ اور اصل الہامی ہونے کے دلائل سُناؤں اور پھر عربی کی اس خصوصیت کی بنا پر کہ کامل اور خالص اور الہامی زبان صرف وہی ہے اس آخری نتیجہ کا قطعی اور یقینی ثبوت دوں کہ الہی کتابوں میں سے اعلیٰ اور ارفع اور اتم اور اکمل اور خاتم الکتب صرف قرآن کریم ہی ہے اور وہی اُتم الکتب ہے جیسا کہ عربی اُم الالسنہ ہے اور اس سلسلۂ تحقیقات میں ہمارے ذمہ تین مرحلوں کا طے کرنا ضروری ہوگا۔پہلا مرحلہ زبانوں کا اشتراک ثابت کرنا۔دوسرا مرحلہ عربی کا اُم الالسنہ ہونا بپایہ ثبوت پہنچانا۔تیسرا مرحلہ عربی کا بوجہ کمالات فوق العادت کے الہامی ثابت کرنا۔تنقیح کے تین امروں سے پہلا امر جو اشتراک السنہ ہے اس کا فیصلہ ہماری اس کتاب میں ایسی صفائی سے ہو گیا ہے جو اس سے بڑھ کر کسی اعلیٰ تحقیقات کے لئے کوئی کارروائی متصور نہیں۔دوسرا امر تنقیح کے امروں میں سے یہ ہے کہ مشترکہ زبانوں میں سے صرف عربی ہی اُم الالسنہ ہے۔چنانچہ اس کی وجوہ بجائے خود مفصل لکھی گئی ہیں۔اور ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ عربی کے کمالات خاصہ میں سے یہ ہے کہ وہ فطری نظام اپنے ساتھ رکھتی ہے اور الہی صنعت کی خوبصورتی اسی رنگ سے دکھلاتی ہے جس رنگ سے خدا تعالیٰ کے اور کام دنیا میں پائے جاتے ہیں۔اور یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ باقی تمام زبانیں زبان عربی کا ایک ممسوخ شدہ خاکہ ہے جس قدر یہ مبارک زبان ان زبانوں میں اپنی ہیئت میں قائم رہی ہے وہ حصہ تو لعل کی طرح چمکتا ہے اور اپنے حسن دلربا کے ساتھ دلوں پر اثر کرتا ہے۔اور جس قدر کوئی زبان بگڑ گئی ہے اسی قدر اس کی نزاکت اور دلکش صورت میں فرق آ گیا ہے۔یہ بات تو ظاہر ہے کہ ہر یک چیز جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے نکلی ہے جب تک وہ اپنی اصلی صورت میں ہے تب تک اس میں خارق عادت شمائل ضرور ہوتے ہیں اور اُس کی نظیر بنانے پر انسان قادر نہیں ہوتا۔اور جونہی وہ چیز اپنی اصلی حالت سے گر جاتی ہے تو معا اُس کی شکل اور حسن میں فرق ظاہر ہو جاتا ہے۔۔زبان عربی اس لطیف طبع اور زیرک انسان کی طرح کام دیتی ہے جو مختلف ذرائع سے اپنے مدعا کو سمجھا سکتا ہے۔مثلاً ایک نہایت ہوشیار اور زیرک انسان کبھی ابر و یا ناک یا ہاتھ سے وہ کام لے لیتا ہے