حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 287

۹۶۹ أُمُّ الْأَلْسِنَةِ یہ خیال بھی صحیح نہیں کہ ہر یک بولی انسان کی ہی ایجاد ہے بلکہ بکمال تحقیق ثابت ہے کہ موجد اور خالق انسان کی بولیوں کا وہی خدائے قادر مطلق ہے جس نے اپنی قدرت کاملہ سے انسان کو پیدا کیا اور اُس کو اسی غرض سے زبان عطا فرمائی کہ تا وہ کلام کرنے پر قادر ہو سکے۔اگر بولی انسان کی ایجاد ہوتی تو اس صورت میں کسی بچہ نوزاد کو تعلیم کی کچھ بھی حاجت نہ ہوتی بلکہ بالغ ہو کر آپ ہی کوئی بولی ایجاد کر لیتا لیکن بہ بداہت عقل ظاہر ہے کہ اگر کسی بچہ کو بولی نہ سکھائی جائے تو وہ کچھ بول نہیں سکتا اور خواہ تم اس بچہ کو یونان کے کسی جنگل میں پرورش کرو یا انگلینڈ کے جزیرہ میں چھوڑ دو۔خواہ تم اس کو خط استوا کے نیچے لے جاؤ تب بھی وہ بولی سیکھنے میں تعلیم کا محتاج ہو گا اور بغیر سکھانے کے بے زبان رہے گا۔اور اس خیال کی تائید میں یہ وہم پیش کرنا کہ ہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ بولیوں میں ہمیشہ صد ہا طرح کے تغیر و تبدل خود بخود ہوتے رہتے ہیں جن سے بولیوں میں انسانی تصرف کا ثبوت ملتا ہے سو واضح ہو کہ یہ و ہم سراسر دھوکا ہے۔تغیرات کہ جو ہمیشہ بولیوں کو لگے ہوئے ہیں یہ انسان کے ارادہ اور اختیار سے ظہور میں نہیں آتے اور نہ یہ کچھ قاعدہ مقرر ہو سکتا ہے کہ خود انسان کی طبیعت کسی خاص خاص وقتوں میں بولیوں میں تغیر تبدل کرتی رہتی ہے بلکہ عمیق نظر سے معلوم ہوگا کہ یہ تغییرات بھی اس علت العلل کے ارادہ اور اختیار سے وقوع میں آتے رہتے ہیں جیسے تمام تغییرات سماوی و ارضی اس کے خاص ارادہ سے ظہور پذیر ہیں۔یہ امرکبھی ثابت نہیں ہو سکتا کہ کبھی انسانوں نے متفق ہو کر یا الگ الگ ان تمام بولیوں کو ایجاد کیا تھا جو دنیا میں بولی جاتی ہیں۔اور اگر کوئی یہ وہم پیش کرے کہ جس طرح طبعی طور پر خدا تعالیٰ بولیوں میں ہمیشہ تغیر تبدل کرتا رہتا ہے کیوں جائز نہیں کہ ابتدا میں بھی اسی طور پر بولیاں ایجاد ہو گئی ہوں اور کوئی خاص الہام نہ ہوا ہو۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ابتداءِ زمانہ کے لئے عام قانونِ قدرت یہی ہے کہ خدا نے ہر یک چیز کو اپنی قدرت محض سے پیدا کیا تھا۔آسمان اور زمین اور سورج اور چاند اور خود انسان کی فطرت پر نظر کرنے سے معلوم ہوگا کہ وہ ابتدائی زمانہ محض قدرت نمائی کا زمانہ تھا جس میں اسباب معتادہ