حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 286

۹۶۸ ہے وہ کہاں جائیں گے۔سو یہ غلطیاں ہیں جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔جو ہمارے مکفر اور مکذب ہیں۔واقعات ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ دونوں صفات یا جوج ماجوج اور دجال ہونے کے یورپین قوموں میں موجود ہیں کیونکہ یا جوج ماجوج کی تعریف حدیثوں میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اُن کے ساتھ لڑائی میں کسی کو طاقت مقابلہ نہیں ہو گی اور مسیح موعود بھی صرف دُعا سے کام لے گا۔اور یہ صفت کھلے کھلے طور پر یورپ کی سلطنتوں میں پائی جاتی ہے اور قرآن شریف بھی اس کا مصدق ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ، اور دجال کی نسبت حدیثوں میں یہ بیان ہے کہ وہ دجل سے کام لے گا اور مذہبی رنگ میں دنیا میں فتنہ ڈالے گا۔سو قرآن شریف میں یہ صفت عیسائی پادریوں کی بیان کی گئی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِام کے اس تقریر سے ظاہر ہے کہ یہ تینوں ایک ہی ہیں۔اسی وجہ سے سورۃ الفاتحہ میں دائمی طور پر یہ دعا سکھلائی گئی کہ تم عیسائیوں کے فتنہ سے پناہ مانگو۔یہ نہیں کہا کہ تم دجال سے پناہ مانگو۔پس اگر کوئی اور دجال ہوتا جس کا فتنہ پادریوں سے زیادہ ہوتا تو خدا کی کلام میں بڑا فتنہ چھوڑ کر قیامت تک یہ دعا نہ سکھلائی جاتی کہ تم عیسائیوں کے فتنہ سے پناہ مانگو۔اور یہ نہ فرمایا جا تا کہ عیسائی فتنہ ایسا ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں۔پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں بلکہ یہ کہا جاتا کہ دجالی فتنہ ایسا ہے جس سے قریب ہے کہ زمین و آسمان پھٹ جائیں۔بڑے فتنے کو چھوڑ کر چھوٹے فتنہ سے ڈرانا بالکل غیر معقول ہے۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۵ تا ۷ ۸ حاشیه) الانبياء: ۹۷ النساء : ۴۷