حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 25

۷۰۷ ↓ ظاہر ہو جاتا ہے۔جیسا کہ اس نے فرمایا مَنْ كَانَ في هذه أعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہی ہو گا یعنی خدا کے دیکھنے کے حواس اور نجات ابدی کا سامان اِسی دنیا سے انسان ساتھ لے جاتا ہے۔اور بار بار اُس نے ظاہر فرمایا ہے کہ جس ذریعہ سے انسان نجات پاسکتا ہے۔وہ ذریعہ بھی جیسا کہ خدا قدیم ہے قدیم سے چلا آتا ہے۔یہ نہیں کہ ایک مدت کے بعد اُس کو یاد آیا کہ اگر اور کسی طرح بنی آدم نجات نہیں پا سکتے تو میں خود ہی ہلاک ہو کر ان کو نجات دوں۔انسان کو حقیقی طور پر اس وقت نجات یافتہ کہہ سکتے ہیں کہ جب اس کے تمام نفسانی جذبات جل جائیں اور اس کی رضا خدا کی رضا ہو جائے اور وہ خدا کی محبت میں ایسا محو ہو جائے کہ اس کا کچھ بھی نہ رہے سب خدا کا ہو جائے اور تمام قول اور فعل اور حرکات اور سکنات اور ارادات اس کے خدا کے لئے ہو جائیں۔اور وہ دل میں محسوس کرے کہ اب تمام لذات اس کی خدا میں ہیں۔اور خدا سے ایک لمحہ علیحدہ ہونا اس کے لئے موت ہے اور ایک نشہ اور شکر محبت الہی کا ایسے طور سے اس میں پیدا ہو جائے کہ جس قدر چیزیں اس کے ماسوا ہیں سب اس کی نظر میں معدوم نظر آئیں۔اور اگر تمام دنیا تلوار پکڑ کر اُس پر حملہ کرے اور اس کو ڈرا کر حق سے علیحدہ کرنا چاہے تو وہ ایک مستحکم پہاڑ کی طرح اسی استقامت پر قائم رہے اور کامل محبت کی ایک آگ اس میں بھڑک اُٹھے اور گناہ سے نفرت پیدا ہو جائے اور جس طور سے اور لوگ اپنے بچوں اور اپنی بیویوں اور اپنے عزیز دوستوں سے محبت رکھتے ہیں اور وہ محبت اُن کے دلوں میں دھنس جاتی ہے کہ اُن کے مرنے کے ساتھ ایسے بے قرار ہو جاتے ہیں کہ گویا آپ ہی مرجاتے ہیں یہی محبت بلکہ اس سے بہت بڑھ کر اپنے خدا سے پیدا ہو جائے۔یہاں تک کہ اس محبت کے غلبہ میں دیوانہ کی طرح ہو جائے اور کامل محبت کی سخت تحریک سے ہر ایک دکھ اور ہر ایک زخم اپنے لئے گوارا کرے تا کسی طرح خدا تعالیٰ راضی ہو جائے۔جب انسان پر اس مرتبہ تک محبت الہی غلبہ کرتی ہے تب تمام نفسانی آلائشیں اُس آتش محبت سے خس و خاشاک کی طرح جل جاتی ہیں۔اور انسان کی فطرت میں ایک انقلاب عظیم پیدا ہو جاتا ہے اور اُس کو وہ دل عطا ہوتا ہے جو پہلے نہیں تھا اور وہ آنکھیں عطا ہوتی ہیں جو پہلے نہیں تھیں اور اس قدر یقین اس پر غالب آ جاتا ہے کہ اسی دنیا میں وہ خدا کو دیکھنے لگتا ہے اور وہ جلن اور سوزش جو دنیا داروں کی فطرت کو دنیا کے لئے جہنم کی طرح لگی ہوئی ہوتی ہے وہ سب دور ہو کر ایک آرام اور راحت اور لذت کی زندگی اس کومل جاتی ہے۔تب اس کیفیت کا نام جو اس کو ملتی ہے نجات رکھا جاتا ہے کیونکہ اس کی رُوح بنی اسرآئیل ۷۳