حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 285
۹۶۷ لڑائی کے داؤ پیچ اور ملکی تدابیر کے امور میں دنیا میں ان کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا اور انہیں کی کلوں اور ایجادوں نے کیا لڑائیوں میں اور کیا کسی قسم کے دنیا کے آرام کے سامانوں میں ایک نیا نقشہ دنیا کا ظاہر کر دیا ہے اور انسان کی تمدنی حالت کو ایک حیرت انگیز انقلاب میں ڈال دیا ہے اور تدبیر امور سیاست اور درستی سامان رزم بزم میں وہ ید طولی دکھلایا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی زمانہ میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔پس خدا کے بزرگ نبی کی پیشگوئی سے صد ہا سال بعد جو واقعہ اس پیشگوئی کی مقرر کردہ علامتوں کے موافق ظہور میں آیا ہے وہ یہی واقعہ یورپین طاقتوں کا ہے۔سو جس طور سے خدا نے یا جوج ماجوج کے معنی ظاہر کر دیئے اور جس قوم کو موجودہ واقعہ نے ان علامات کا مصداق ٹھہرا دیا اس کو قبول نہ کرنا ایک کھلے کھلے حق سے انکار کرنا ہے۔یوں تو انسان جب انکار پر اصرار کرے تو اس کا منہ کون بند کر سکتا ہے لیکن ایک منصف مزاج آدمی جو طالب حق ہے وہ ان تمام امور پر اطلاع پا کر پورے اطمینان اور شلج صدر سے گواہی دے گا کہ بلاشبہ یہی تو میں یا جوج ماجوج ہیں۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۳ تا ۸۸) حدیثوں میں بظاہر یہ تناقض پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود کے مبعوث ہونے کے وقت ایک طرف تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ یا جوج ماجوج تمام دنیا میں پھیل جائیں گے اور دوسری طرف یہ بیان ہے کہ تمام دنیا میں عیسائی قوم کا غلبہ ہوگا جیسا کہ حدیث یکسر الصلیب سے بھی سمجھا جاتا ہے کہ صلیبی قوم کا اس زمانہ میں بڑا عروج اور اقبال ہو گا۔ایسا ہی ایک دوسری حدیث سے بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ اس زمانہ میں رومیوں کی کثرت اور قوت ہوگی یعنی عیسائیوں کی۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں رومی سلطنت عیسائی تھی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے۔غُلِبَتِ الرُّوم فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ لے اس جگہ بھی روم سے مراد عیسائی سلطنت ہے۔اور پھر بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت دجال کا تمام زمین پر غلبہ ہو گا اور تمام زمین پر بغیر مکہ معظمہ کے دجال محیط ہو جائے گا۔اب کوئی مولوی صاحب بتلاویں کہ یہ تناقض کیونکر دُور ہو سکتا ہے۔اگر دقبال تمام زمین پر محیط ہو جائے گا تو عیسائی سلطنت کہاں ہو گی۔ایسا ہی یا جوج ماجوج جن کی عام سلطنت کی قرآن شریف خبر دیتا الروم :٤٣