حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 284
۹۶۶ دنیا میں بڑا تفرقہ پھیل جائے گا۔اور بڑی پھوٹ اور بغض اور کینہ لوگوں میں پیدا ہو جائے گا اور جب یہ باتیں کمال کو پہنچ جائیں گی تب خدا آسمان سے اپنی قرنا میں آواز پھونک دے گا یعنی مسیح موعود کے ذریعہ سے جو اس کی قرنا ہے ایک ایسی آواز دنیا کو پہنچائے گا جو اس آواز کے سننے سے سعادت مند لوگ ایک ہی مذہب پر اکٹھے ہو جائیں گے اور تفرقہ دور ہو جائے گا اور مختلف قومیں دنیا کی ایک ہی قوم بن جائیں گی اور پھر دوسری آیت میں فرمایا وَ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَبِذٍ لِلْكَفِرِينَ عَرِّضَا ہے اور اُس دن جو لوگ مسیح موعود کی دعوت کو قبول نہیں کریں گے ان کے سامنے ہم جہنم کو پیش کریں گے یعنی طرح طرح۔کے عذاب نازل کریں گے جو جہنم کا نمونہ ہوں گے اور پھر فرمایا۔اَلَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاء عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا لا یعنی وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ مسیح موعود کی دعوت اور تبلیغ سے اُن کی آنکھیں پردہ میں رہیں گی اور وہ اس کی باتوں کوسُن بھی نہیں سکیں گے اور سخت بیزار ہوں گے۔اس لئے عذاب نازل ہو گا۔اس جگہ صور کے لفظ سے مُراد مسیح موعود ہے کیونکہ خدا کے نبی اُس کی صور ہوتے ہیں یعنی قرنا۔جن کے دلوں میں وہ اپنی آواز پھونکتا ہے۔یہی محاورہ پہلی کتابوں میں بھی آیا ہے کہ خدا کے نبیوں کو خدا کے قرنا قرار دیا گیا ہے یعنی جس طرح قرنا بجانے والا قرنا میں اپنی آواز پھونکتا ہے۔اسی طرح خدا ان کے دلوں میں آواز پھونکتا ہے اور یا جوج ماجوج کے قرینہ سے قطعی طور سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ قرنا مسیح موعود ہے کیونکہ احادیث صحیحہ سے یہ امر ثابت شدہ ہے کہ یا جوج ماجوج کے زمانہ میں ظاہر ہونے والا مسیح موعود ہی ہوگا۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جبکہ ایک طرف بائبل سے یہ امر ثابت شدہ ہے کہ یورپ کے عیسائی فرقے ہی یا جوج ماجوج ہیں اور دوسری طرف قرآن شریف نے یا جوج ماجوج کی وہ علامتیں مقرر کی ہیں جوصرف یورپ کی سلطنتوں پر ہی صادق آتی ہیں۔جیسا کہ یہ لکھا ہے کہ وہ ہر ایک بلندی پر سے دوڑیں گے یعنی سب طاقتوں پر غالب ہو جائیں گے اور ہر ایک پہلو سے دنیا کا عروج اُن کو مل جائے گا۔اور حدیثوں میں بھی یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ کسی سلطنت کو اُن کے ساتھ تاب مقابلہ نہیں ہوگی۔پس یہ تو قطعی فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہی تو میں یا جوج ماجوج ہیں اور اس سے انکار کرنا سراسر تحکم اور خدا تعالیٰ کے فرمودہ کی مخالفت ہے۔اس میں کس کو کلام ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قول کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے موافق یہی قومیں ہیں جو اپنی دنیوی طاقت میں تمام قوموں پر فوقیت لے گئی ہیں۔جنگ اور الكهف: ١٠١ الكهف: ١٠٢