حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 280

۹۶۲ چوپان اور ایک ہی گلہ ہوگا اور وہ دن بڑے سخت ہوں گے اور خدا ہیبت ناک نشانوں کے ساتھ اپنا چہرہ ظاہر کر دے گا اور جو لوگ کفر پر اصرار کرتے ہیں۔وہ اسی دنیا میں بباعث طرح طرح کی بلاؤں کے دوزخ کا منہ دیکھ لیں گے خدا فرماتا ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کی آنکھیں میری کلام سے پردہ میں تھیں اور جن کے کان میرے حکم کو سن نہیں سکتے تھے۔کیا ان منکروں نے یہ گمان کیا تھا کہ یہ امرسہل ہے کہ عاجز بندوں کو خدا بنا دیا جائے اور میں معطل ہو جاؤں اس لئے ہم اُن کی ضیافت کے لئے اسی دنیا میں جہنم کو نمودار کر دیں گے یعنی بڑے بڑے ہولناک نشان ظاہر ہوں گے اور یہ سب نشان اس کے مسیح موعود کی سچائی پر گواہی دیں گے۔اُس کریم کے فضل کو دیکھو کہ یہ انعامات اس مُشت خاک پر ہیں جس کو مخالف کا فر اور دجال کہتے ہیں۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۱۹ تا ۱۲۶) مجھ سے ایک صاحب حکیم مرزا محمود ایرانی نام نے آج ۲ ستمبر ۱۹۰۲ء کو بذریعہ ایک خط کے دریافت کیا ہے کہ اس آیت کے کیا معنے ہیں۔وَجَدَهَا تَخْرُبُ فِي عَيْنِ حَمِيَّةٍ لا پس واضح ہو کہ آیت قرآنی بہت سے اسرار اپنے اندر رکھتی ہے جس کا احاطہ نہیں ہو سکتا اور جس کے ظاہر کے نیچے ایک باطن بھی ہے لیکن وہ معنے جو خدا نے میرے پر ظاہر فرمائے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ آیت مع اپنے سابق اور لاحق کے مسیح موعود کے لئے ایک پیشگوئی ہے اور اس کے وقت ظہور کو مشخص کرتی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مسیح موعود بھی ذوالقرنین ہے کیونکہ قرون عربی زبان میں صدی کو کہتے ہیں اور آیت قرآنی میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ وعدہ کا مسیح جو کسی وقت ظاہر ہو گا۔اس کی پیدائش اور اس کا ظاہر ہونا دوصدیوں پر مشتمل ہو گا۔چنانچہ میرا وجود اسی طرح پر ہے۔میرے وجود نے مشہور ومعروف صدیوں میں خواہ ہجری ہیں خواہ مسیحی خواہ بکرما جیتی اس طور پر اپنا ظہور کیا ہے کہ ہر جگہ دوصدیوں پر مشتمل ہے صرف کسی ایک صدی تک میری پیدائش اور ظہور ختم نہیں ہوئے۔غرض جہاں تک مجھے علم ہے میری پیدائش اور میرا ظہور ہر ایک مذہب کی صدی میں صرف ایک صدی پر اکتفاء نہیں کرتا بلکہ دوصدیوں میں اپنا قدم رکھتا ہے۔پس ان معنوں سے میں ذوالقرنین ہوں۔چنانچہ بعض احادیث میں بھی مسیح موعود کا نام ذوالقرنین آیا ہے۔ان حدیثوں میں بھی ذوالقرنین کے یہی معنے ہیں جو میں نے بیان کئے ہیں۔اب باقی آیت کے معنے پیشگوئی کے لحاظ سے یہ ہیں کہ الكهف: ۸۷