حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 279
۹۶۱ طاقت کے موافق کرو تا میں تم میں اور ان میں ایک دیوار کھینچ دوں۔یعنی ایسے طور پر ان پر حجت پوری کروں کہ وہ کوئی طعن تشنیع اور اعتراض کا تم پر حملہ نہ کر سکیں۔لوہے کی سلیں مجھے لا دو تا آمد ورفت کی را ہوں کو بند کیا جائے۔یعنی اپنے تئیں میری تعلیم اور دلائل پر مضبوطی سے قائم کرو اور پوری استقامت اختیار کرو اور اس طرح پر خود لوہے کی سل بن کر مخالفانہ حملوں کو روکو۔اور پھر سلوں میں آگ پھونکو جب تک کہ وہ خود آگ بن جائیں۔یعنی محبت الہی اس قدر اپنے اندر بھڑکاؤ کہ خود الہی رنگ اختیار کرو۔پھر آیات متذکرہ بالا کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذوالقرنین یعنی مسیح موعود اس قوم کو جو یا جوج ماجوج سے ڈرتی ہے کہے گا کہ مجھے تا نبالا دو کہ میں اس کو پگھلا کر اس دیوار پر انڈیل دوں گا۔پھر بعد اس کے یا جوج ماجوج طاقت نہیں رکھیں گے کہ ایسی دیوار پر چڑھ سکیں یا اس میں سوراخ کر سکیں۔یادر ہے کہ لو ہا اگرچہ بہت دیر تک آگ میں رہ کر آگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے مگر مشکل سے لوہا پکھلتا ہے۔مگر تا با جلد پکھل جاتا ہے اور سالک کے لئے خدا تعالیٰ کی راہ میں پگھلنا بھی ضروری ہے پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے مستعد دل اور نرم طبیعتیں لاؤ جو خدا تعالیٰ کے نشانوں کو دیکھ کر پگھل جائیں۔کیونکہ سخت دلوں پر خدا تعالیٰ کے نشان کچھ اثر نہیں کرتے لیکن انسان شیطانی حملے سے تب محفوظ ہوتا ہے کہ اوّل استقامت میں لوہے کی طرح ہو اور پھر وہ لو ہا خدا تعالیٰ کی محبت کی آگ سے آگ کی صورت پکڑ لے اور پھر دل پکھل کر اُس لو ہے پر پڑے اور اس کو منتشر اور پراگندہ ہونے سے تھام لے۔سلوک تمام ہونے کے لئے یہ تین ہی شرطیں ہیں جو شیطانی حملوں سے محفوظ رہنے کے لئے د سکندری ہیں اور شیطانی رُوح اس دیوار پر چڑھ نہیں سکتی اور نہ اس میں سوراخ کر سکتی ہے۔اور پھر فرمایا کہ یہ خدا کی رحمت سے ہو گا۔اور اس کا ہاتھ یہ سب کچھ کرے گا۔انسانی منصوبوں کا اس میں دخل نہیں ہوگا۔اور جب قیامت کے دن نزدیک آجائیں گے تو پھر دوبارہ فتنہ برپا ہو جائے گا۔یہ خدا کا وعدہ ہے۔اور پھر فرمایا کہ ذوالقرنین کے زمانہ میں جو مسیح موعود ہے ہر ایک قوم اپنے مذہب کی حمایت میں اُٹھے گی۔اور جس طرح ایک موج دوسری موج پر پڑتی ہے ایک دوسرے پر حملہ کریں گے۔اتنے میں آسمان پر کرنا پھونکی جائے گی۔یعنی آسمان کا خدا مسیح موعود کو مبعوث فرما کر ایک تیسری قوم پیدا کر دے گا اور اُن کی مدد کے لئے بڑے بڑے نشان دکھلائے گا۔یہاں تک کہ تمام سعید لوگوں کو ایک مذہب پر یعنی اسلام پر جمع کر دے گا اور وہ مسیح کی آواز سنیں گے اور اس کی طرف دوڑیں گے۔تب ایک ہی سید