حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 273

۹۵۵ نہ پائی جائے۔ایک وجہ سے یہ مردوں کو بھی زندہ کرتے ہیں اور زندوں کو مارتے ہیں۔( سمجھنے والا سمجھ لے ) اور اس میں تو شک نہیں کہ ان کی آنکھ ایک ہی ہے جو بائیں ہے۔اگر ان کی دائیں آنکھ موجود ہوتی تو یہ لوگ خدائے تعالیٰ سے ڈرتے اور خدائی کے دعوے سے باز آتے بے شک یہ بھی سچ ہے کہ پہلی کتابوں میں اس قوم دجال کا ذکر ہے۔حضرت مسیح ابن مریم نے بھی انجیل میں بہت ذکر کیا ہے اور پہلے صحیفوں میں بھی جا بجا ان کا ذکر پایا جاتا ہے۔بلاشبہ ایسا ہی چاہئے تھا کہ ہر یک نبی اس مسیح دجال کے آنے کی پہلے سے خبر دیتا۔سو ہر ایک نے تَصْرِيحًا یا اجمالًا۔اشارہ یا کنایہ خبر دی ہے۔حضرت نوح سے لے کر ہمارے سید و مولی خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک تک اس مسیح دجال کی خبر موجود ہے جس کو میں دلائل کے ساتھ ثابت کر سکتا ہوں۔اور جس قدر اسلام کو ان لوگوں کے ہاتھ سے ضرر پہنچا ہے اور جس قد رانہوں نے سچائی اور انصاف کا خون کیا ہے ان تمام خرابیوں کا کون اندازہ کر سکتا ہے۔ہجرت مقدسہ کی تیرھویں صدی سے پہلے ان تمام فتنوں کا نام ونشان نہ تھا۔اور جب تیرھویں صدی کچھ نصف سے زیادہ گذرگئی تو یکدفعہ اس دجالی گروہ کا خروج ہوا اور پھر ترقی ہوتی گئی یہاں تک کہ اس صدی کے اواخر میں بقول پادری ہیکر صاحب پانچ لاکھ تک صرف ہندوستان میں ہی کرسٹان شدہ لوگوں کی نوبت پہنچ گئی اور اندازہ کیا گیا کہ قریبا بارہ سال میں ایک لاکھ آدمی عیسائی مذہب میں داخل ہو جاتا ہے جو ایک عاجز بندہ کو خدا خدا کر کے پکارتا ہے۔اس بات سے کوئی دانا بے خبر نہیں کہ ایک جماعت کثیر اسلام کی یا یوں کہو کہ اسلام کے بھوکوں ننگوں کا ایک گروہ پادری صاحبوں نے صرف روٹیاں اور کپڑے دکھلا کر اپنے قبضہ میں کر لیا ہے اور جو روٹیوں کے ذریعہ سے قابو نہ آئے وہ عورتوں کے ذریعہ سے اپنے پنجہ میں کئے گئے اور جو اس طرح بھی دام میں نہ پھنس سکے اُن کے لئے ملحد اور بے دین کرنے والا فلسفہ پھیلایا گیا جس میں آج لاکھوں نو خیز بچے مسلمانوں کے گرفتار اور مبتلا پائے جاتے ہیں جو نما ز پر ہنتے اور روزہ کو ٹھٹھے سے یاد کرتے اور وحی الہی کو ایک خواب پریشان خیال کرتے ہیں۔اور جو لوگ اس لائق بھی نہیں تھے کہ انگریزی فلسفہ کی تعلیم پاویں ان کے لئے بہت سے بناوٹی قصے جو محض پادری صاحبوں کے بائیں ہاتھ کا کرتب تھا جن میں کسی تاریخ یا کہانی کے پیرا یہ میں ہجو اسلام درج تھی عام طور پر شائع کر دیئے گئے اور پھر اسلام کے رد میں اور ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں بے شمار کتابیں تالیف کر کے ان لوگوں نے ایک دنیا میں مفت تقسیم کیں اور اکثر کتابوں کے بہت سی زبانوں میں ترجمے کر کے شائع کئے۔