حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 269

۹۵۱ جنگ نہ کیا اور محض روحانی برکت سے اصلاح خلائق کی۔اور اس کے مقابل پر مسیح اُس معہود دجال کو بھی کہتے ہیں جس کی خبیث طاقت اور تاثیر سے آفات اور دہریت اور بے ایمانی پیدا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ سچائی کے نابود کرنے کے لئے کوئی اور جابرانہ وسائل استعمال کرے صرف اس کی توجہ باطنی یا تقریر یا تحریر یا مخالفت سے محض شیطانی روح کی تاثیر سے نیکی اور محبت الہی ٹھنڈی ہوتی چلی جائے اور بدکاری شراب خوری دروغ گوئی اباحت دنیا پرستی مگر ظلم تعدی قحط اور وبا پھیلے۔یہی معنے ہیں جو لسان العرب وغیرہ اعلیٰ درجہ کی لغت کی کتابوں سے اُن کے بیان کو یکجائی نظر سے دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں اور یہی معنے ہیں جو خدا تعالیٰ نے میرے دل میں القاء کئے ہیں۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۹۴) یادر ہے کہ جس مسیح یعنی روحانی برکات والے کی مسلمانوں کو آخری زمانہ میں بشارت دی گئی ہے اسی کی نسبت یہ بھی لکھا ہے کہ وہ دجال معہود کو قتل کرے گا لیکن یقتل تلوار یا بندوق سے نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ دجالی بدعات اس کے زمانہ میں نابود ہو جائیں گی۔حدیثوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل دجال شیطان کا نام ہے پھر جس گروہ سے شیطان اپنا کام لے گا اس گروہ کا نام بھی استعارہ کے طور پر دجال رکھا گیا کیونکہ وہ اُس کے اعضاء کی طرح ہے۔قرآن شریف میں جو یہ آیت ہے لَخَلْقُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ اكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ لا یعنی انسانوں کی صنعتوں سے خدا کی صنعتیں بہت بڑی ہیں۔یہ اشارہ ان انسانوں کی طرف ہے جن کی نسبت لکھا گیا تھا کہ وہ آخری زمانہ میں بڑی بڑی صنعتیں ایجاد کریں گے اور خدائی کاموں میں ہاتھ ڈالیں گے۔اور مفسرین نے لکھا ہے کہ اس جگہ انسانوں سے مراد دجال ہے۔اور یہ قول دلیل اس بات پر ہے کہ دجال معہود ایک شخص نہیں ہے ورنہ ناس کا نام اس پر اطلاق نہ پاتا اور اس میں کیا شک ہے کہ ناس کا لفظ صرف گروہ پر بولا جاتا ہے۔سو جو گر وہ شیطان کے وساوس کے نیچے چلتا ہے وہ دجال کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔اسی کی طرف قرآن شریف کی اس ترتیب کا اشارہ ہے کہ وہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ یا سے شروع کیا گیا اور اس آیت پر ختم کیا گیا ہے۔الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ کے پس لفظ ناس سے مراد اس جگہ بھی دجال ہے اور اخیر میں اس گروہ کے ذکر سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ المؤمن: ۵۸ الفاتحة: ٢ الناس : ٧،٦