حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 265
۹۴۷ المسيح الدجال واضح ہو کہ دجال کے لفظ کی دو تعبیریں کی گئی ہیں۔ایک یہ کہ دجال اُس گروہ کو کہتے ہیں جو جھوٹ کا حامی ہو اور مکر اور فریب سے کام چلا دے۔دوسری یہ کہ دجال شیطان کا نام ہے جو ہر ایک جھوٹ اور (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۲۶) فساد کا باپ ہے۔قرآن شریف اُس شخص کو جس کا نام حدیثوں میں دجال ہے شیطان قرار دیتا ہے جیسا کہ وہ شیطان کی طرف سے حکایت کر کے فرماتا ہے۔قَالَ انْظُرْنِی إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ إِنَّكَ مِنَ المنظرِينَ لا یعنی شیطان نے جناب الہی میں عرض کی کہ میں اس وقت تک ہلاک نہ کیا جاؤں جب تک کہ وہ مُردے جن کے دل مر گئے ہیں دوبارہ زندہ ہوں خدا نے کہا کہ میں نے تجھے اس وقت تک مہلت دی۔سو وہ دجال جس کا حدیثوں میں ذکر ہے وہ شیطان ہی ہے جو آخر زمانہ میں قتل کیا جائے گا۔جیسا کہ دانیال نے بھی یہی لکھا ہے اور بعض حدیثیں بھی یہی کہتی ہیں اور چونکہ مظہر اتم شیطان کا نصرانیت ہے اس لئے سورہ فاتحہ میں دجال کا تو کہیں ذکر نہیں مگر نصاری کے شر سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا حکم ہے۔اگر دجال کوئی الگ مفسد ہوتا تو قرآن شریف میں بجائے اِس کے کہ خدا تعالیٰ یہ فرماتا وَلَا الضَّالِّينَ " یہ فرمانا چاہئے تھا کہ وَلَا الدَّجال اور آیت اِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ سے مراد جسمانی بعث نہیں کیونکہ شیطان صرف اس وقت تک زندہ ہے جب تک کہ بنی آدم زندہ ہیں۔ہاں شیطان اپنے طور سے کوئی کام نہیں کرتا بلکہ بذریعہ اپنے مظاہر کے کرتا ہے۔سو وہ مظاہر یہی انسان کو خدا بنانے والے ہیں۔اور چونکہ وہ گروہ ہے اس لئے اُس کا نام دجال رکھا گیا ہے۔کیونکہ عربی زبان میں دجال گروہ کو بھی کہتے ہیں۔اور اگر دجال کو نصرانیت کے گمراہ واعظوں سے الگ سمجھا جائے تو ایک محذور لازم آتا ہے وہ یہ کہ جن حدیثوں سے یہ پتہ بھی لگتا ہے کہ آخری دنوں میں دجال تمام زمین پر محیط ہو جائے گا انہیں حدیثوں سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ آخری دنوں میں کلیسیا کی طاقت تمام مذاہب پر غالب آجائے گی۔پس یہ تناقض بجز اس کے کیونکر دور ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔الاعراف: ۱۵ ۲ الفاتحة: ۷ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۱ )