حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 246

۹۲۸ تھے اور یہ بات ممکن ہوتی تھی کہ اگر صلیب پر کھینچنے اور کیل ٹھونکنے کے بعد ایک دو دن تک کسی کی جان بخشی کا ارادہ ہو تو اسی قدر عذاب پر کفایت کر کے ہڈیاں توڑنے سے پہلے اس کو زندہ اتار لیا جائے اور اگر مارنا ہی منظور ہوتا تھا تو کم سے کم تین دن تک صلیب پر کھنچا ہوا رہنے دیتے تھے اور پانی اور روٹی نزدیک نہ آنے دیتے تھے اور اسی طرح دھوپ میں تین دن یا اس سے زیادہ چھوڑ دیتے تھے اور پھر اس کے بعد اسکی ہڈیاں توڑتے تھے اور پھر آخر ان تمام عذابوں کے بعد وہ مرجاتا تھا لیکن خدا تعالیٰ کے فضل وکرم نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اس درجہ کے عذاب سے بچا لیا جس سے زندگی کا خاتمہ ہو جاتا۔انجیلوں کو ذرہ غور کی نظر سے پڑھنے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نہ تین دن تک صلیب پر رہے اور نہ تین دن کی بھوک اور پیاس اُٹھائی اور نہ ان کی ہڈیاں توڑی گئیں۔بلکہ قریباً دو گھنٹہ تک صلیب پر رہے اور خدا کے رحم اور فضل نے اُن کے لئے یہ تقریب قائم کر دی کہ دن کے اخیر حصے میں صلیب دینے کی تجویز ہوئی اور وہ جمعہ کا دن تھا اور صرف تھوڑا سا دن باقی تھا اور اگلے دن سبت اور یہودیوں کی عید فسح تھی اور یہودیوں کیلئے یہ حرام اور قابل سزا جرم تھا کہ کسی کو سبت یا سبت کی رات میں صلیب پر رہنے دیں اور مسلمانوں کی طرح یہودی بھی قمری حساب رکھتے تھے اور رات دن پر مقدم سمجھی جاتی تھی۔پس ایک طرف تو یہ تقریب تھی کہ جو زمینی اسباب سے پیدا ہوئی اور دوسری طرف آسمانی اسباب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ پیدا ہوئے کہ جب چھٹا گھنٹہ ہوا تو ایک ایسی آندھی آئی کہ جس سے ساری زمین پر اندھیرا چھا گیا اور وہ اندھیرا تین گھنٹے برابر رہا۔دیکھو مرقس باب ۱۵ آیت ۳۳۔یہ چھٹا گھنٹہ بارہ بجے کے بعد تھا یعنے وہ وقت جو شام کے قریب ہوتا ہے۔اب یہودیوں کو اس شدت اندھیرے میں یہ فکر پڑی کہ مبادا سبت کی رات آجائے اور وہ سبت کے مجرم ہو کر تا وان کے لائق ٹھہریں اس لئے انہوں نے جلدی سے مسیح کو اور اس کے ساتھ کے دو چوروں کو بھی صلیب پر سے اتارلیا اور اس کے ساتھ ایک اور آسمانی سبب یہ پیدا ہوا کہ جب پلاطوس کچہری کی مسند پر بیٹھا تھا اُس کی جورو نے اُسے کہلا بھیجا کہ تو اس راستباز سے کچھ کام نہ رکھ (یعنی اس کے قتل کرنے کے لئے سعی نہ کر ) کیونکہ میں نے آج رات خواب میں اس کے سبب سے بہت تکلیف پائی۔دیکھومتی باب ۲۷ آیت ۱۹۔سو یہ فرشتہ جو خواب میں پلاطس کی جورو کو دکھایا گیا اس سے ہم اور ہر ایک منصف یقینی طور پر یہ سمجھے گا کہ خدا کا ہرگز یہ منشا نہ تھا کہ مسیح صلیب پر وفات پاوے اور منجملہ اُن شہادتوں کے جو انجیل سے ہمیں مسیح ابن مریم کی صلیبی موت سے محفوظ رہنے پر ملتی ہیں