حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 239
۹۲۱ اس وقت دکھلائے ؟ اُن کے گذر جانے کے بعد مخلوق پرستوں نے باتیں بنائیں اور آسمان پر چڑھا دیا۔مگر جو کچھ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنا ایمان دکھلایا وہ باتیں تو اب تک انجیلوں میں موجود ہیں۔غرض وہ دلیل جو نبوت اور رسالت کے مفہوم سے ایک سچے نبی کے لئے قائم ہوتی ہے وہ حضرت مسیح کے لئے قائم نہیں ہوسکی۔اگر قرآن شریف ان کی نبوت کا بیان نہ کرتا تو ہمارے لئے کوئی بھی راہ کھلی نہیں تھی کہ ہم اُنکو سچے نبیوں کے سلسلہ میں داخل کر سکیں۔کیا جس کی یہ تعلیم ہو کہ میں ہی خدا ہوں اور خدا کا بیٹا اور بندگی اور فرمانبرداری سے آزاد اور جس کی عقل اور معرفت صرف اس قدر ہو کہ میری خودکشی سے لوگ گناہ سے نجات پا جائیں گے ایسے آدمی کو ایک دم کے لئے بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ دانا اور راہِ راست پر ہے۔مگر الحمدللہ کہ قرآنی تعلیم نے ہم پر یہ کھول دیا کہ ابن مریم پر یہ سب الزام جھوٹے ہیں۔انجیل میں تثلیث کا نام ونشان نہیں ایک عام محاورہ لفظ ابن اللہ کا جو پہلی کتابوں میں آدم سے لیکر اخیر تک ہزارہا لوگوں پر بولا گیا تھا وہی عام لفظ حضرت مسیح کے حق میں انجیل میں آگیا۔پھر بات کا بتنگڑ بنایا گیا یہاں تک کہ حضرت مسیح اسی بات کی بنیاد پر خدا بھی بن گئے۔حالانکہ نہ کبھی مسیح نے خدائی کا دعویٰ کیا اور نہ کبھی خود کشی کی خواہش ظاہر کی جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ایسا کرتا تو راستبازوں کے دفتر سے اُس کا نام کا ٹا جاتا۔یہ بھی مشکل سے یقین ہوتا ہے کہ ایسے شرمناک جھوٹ کی بنیا د حواریوں کے خیالات کی برگشتگی نے پیدا کی ہو کیونکہ گو ان کی نسبت جیسا کہ انجیل میں بیان کیا گیا ہے یہ صحیح بھی ہو کہ وہ موٹی عقل کے آدمی اور جلد تر غلطی کھانے والے تھے لیکن ہم اس بات کو قبول نہیں کر سکتے کہ وہ ایک نبی کے صحبت یافتہ ہو کر ایسے بیہودہ خیالات کی جنس کو اپنی ہتھیلی پر لئے پھرتے تھے۔مگر انجیل کے حواشی پر نظر غور کرنے سے اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ساری چالبازی حضرت پولس کی ہے جس نے پولیٹیکل چالبازوں کی طرح عمیق مکروں سے کام لیا ہے۔غرض جس ابن مریم کی قرآن شریف نے ہم کو خبر دی ہے وہ اُسی ازلی ابدی ہدایت کا پابند تھا جو ابتدا سے بنی آدم کے لئے مقرر کی گئی ہے۔لہذا اس کی نبوت کے لئے قرآنی ثبوت کافی ہے گوانجیل کے رُو سے کتنے ہی شکوک وشبہات اس کی نبوت کے وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى بارے میں پیدا ہوں۔( نور القرآن نمبر ا۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۷۰ تا ۳۷۲) تثلیث کا عقیدہ بھی ایک عجیب عقیدہ ہے۔کیا کسی نے سنا ہے کہ مستقل طور پر اور کامل طور پر تین بھی