حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 235
۹۱۷ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے مگر یہ استعارہ کے رنگ میں بولا گیا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۶،۶۵) عیسائیوں کے خدا کا حلیہ یہ ہے کہ وہ ایک اسرائیلی آدمی مریم بنت یعقوب کا بیٹا ہے جو ۳۲ برس کی عمر پا کر اس دار الفنا سے گذر گیا۔جب ہم سوچتے ہیں کہ کیونکر وہ گرفتار ہونے کے وقت ساری رات دعا کر کے پھر بھی اپنے مطلب سے نامراد رہا اور ذلت کے ساتھ پکڑا گیا اور بقول عیسائیوں کے سولی پر کھینچا گیا اور ایلی ایلی کرتا مر گیا تو ہمیں یکدفعہ بدن پر لرزہ پڑتا ہے کہ کیا ایسے انسان کو جس کی دعا بھی جناب الہی میں قبول نہ ہو سکی اور نہایت ناکامی اور نامرادی سے ماریں کھاتا کھاتا مر گیا قادر خدا کہہ سکتے ہیں۔ذرا اس وقت کے نظارہ کو آنکھوں کے سامنے لاؤ جبکہ یسوع مسیح حوالات میں ہو کر پلاطوس کی عدالت سے ہیرو دوس کی طرف بھیجا گیا۔کیا یہ خدائی کی شان ہے کہ حوالات میں ہو کر ہتھکڑی ہاتھ میں زنجیر پیروں میں چند سپاہیوں کی حراست میں چالان ہو کر جھڑ کیاں کھا تا ہوا گلیل کی طرف روانہ ہوا اور اس حالت پر ملالت میں ایک حوالات سے دوسری حوالات میں پہنچا۔پلاطوس نے کرامت دیکھنے پر چھوڑنا چاہا۔اس وقت کوئی کرامت دکھلا نہ سکا۔ناچار پھر حراست میں واپس کر کے یہودیوں کے حوالہ کیا گیا اور انہوں نے ایک دم میں اس کی جان کا قصہ تمام کر دیا۔اب ناظرین خود سوچ لیں کہ کیا اصلی اور حقیقی خدا کی یہی علامتیں ہوا کرتی ہیں؟ کیا کوئی پاک کانشنس اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ وہ جو زمین و آسمان کا خالق اور بے انتہا قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے وہ اخیر پر ایسا بد نصیب اور کمزور اور ذلیل حالت میں ہو جائے کہ شریر انسان اس کو اپنے ہاتھوں میں مل ڈالیں۔اگر کوئی ایسے خدا کو پوجے اور اُس پر بھروسہ کرے تو اُسے اختیار ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اگر آریوں کے پر میشر کے مقابل پر بھی عیسائیوں کے خدا کو کھڑا کر کے اس کی طاقت اور قدرت کو وزن کیا جائے تب بھی اس کے مقابل پر بھی یہ بیچ محض ہے کیونکہ آریوں کا فرضی پر میشر اگر چہ پیدا کرنے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا لیکن کہتے ہیں کہ پیدا شدہ چیزوں کو کسی قدر جوڑ سکتا ہے مگر عیسائیوں کے یسوع میں تو اتنی بھی طاقت ثابت نہ ہوئی۔جس وقت یہودیوں نے صلیب پر کھینچ کر کہا تھا کہ اگر تو اب اپنے آپ کو بچائے تو ہم تیرے پر ایمان لاویں گے تو وہ ان کے سامنے اپنے تئیں بچا نہ سکا۔ورنہ اپنے تئیں بچانا کیا کچھ بڑا کام تھا؟ صرف اپنے روح کو اپنے جسم کے ساتھ جوڑ نا تھا۔سو اس کمزور کو جوڑنے کی بھی طاقت نہ ہوئی۔پیچھے سے پردہ داروں نے باتیں بنالیں کہ وہ قبر میں زندہ ہو گیا تھا مگر افسوس کہ انہوں