حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 233
۹۱۵ اور اصل جواب کو چھپا لیا اور تقیہ اختیار کیا مگر میں کہتا ہوں کہ کیا یہ ان نبیوں کا کام ہے کہ اللہ جلشانہ کی راہ میں ہر وقت جان دینے کو تیار رہتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسالتِ اللهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا إِلَّا الله لا یعنی اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبر جو اس کے پیغام پہنچاتے ہیں وہ پیغام رسانی میں کسی سے نہیں ڈرتے۔پس حضرت مسیح قادر مطلق کہلا کر کمزور یہودیوں سے کیونکر ڈر گئے۔اب اس سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے حقیقی طور پر ابن اللہ ہونے کا یا خدا ہونے کا کبھی دعویٰ نہیں کیا۔اور اس دعوئی میں اپنے تئیں ان تمام لوگوں کا ہمرنگ قرار دیا اور اس بات کا اقرار کیا کہ انہی کے موافق یہ دعوی بھی ہے۔پھر حضرت مسیح نے صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ آپ نے کئی مقامات انجیل میں اپنی انسانی کمزوریوں کا اقرار کیا۔جیسا کہ جب قیامت کا پتہ ان سے پوچھا گیا تو آپ نے اپنی لاعلمی ظاہر فرمائی اور کہا کہ بجز اللہ تعالیٰ کے قیامت کے وقت کو کوئی نہیں جانتا۔اب صاف ظاہر ہے کہ علم روح کی صفات میں سے ہے نہ جسم کی صفات میں سے۔اگر ان میں اللہ تعالیٰ کا روح تھا اور یہ خود اللہ تعالیٰ ہی تھے تو لاعلمی کے اقرار کی کیا وجہ؟ کیا خدا تعالی بعد علم کے نادان بھی ہو جایا کرتا ہے۔پھر منتی ۱۹ باب ۱۶۔میں لکھا ہے۔”دیکھو ایک نے آ کے اُسے (یعنی مسیح سے ) کہا اے نیک اُستاد میں کون سا نیک کام کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں۔اُس نے اسے کہا تو کیوں نیک مجھے کہتا ہے۔نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔پھر متی ۲۰/ ۲۰ میں لکھا ہے کہ زبدی کے بیٹوں کی ماں نے اپنے بیٹوں کے حضرت مسیح کے دائیں بائیں بیٹھنے کی درخواست کی تو فرمایا اس میں میرا اختیار نہیں۔اب فرمائیے قادر مطلق ہونا کہاں گیا۔قادر مطلق بھی کبھی بے اختیار ہو جایا کرتا ہے؟ اور جبکہ اس قدر تعارض صفات میں واقع ہو گیا کہ حضرات حواری تو آپ کو قادر مطلق خیال کرتے ہیں اور آپ قادر مطلق ہونے سے انکار کر رہے ہیں تو ان پیش کردہ پیشگوئیوں کی کیا عزت اور کیا وقعت باقی رہی جس کے لئے یہ پیش کی جاتی ہیں۔وہی انکار کرتا ہے کہ میں قادر مطلق نہیں۔یہ خوب بات ہے۔پھر متی ۳۸/ ۲۶ میں لکھا ہے کہ جس کا ماحصل یہ ہے کہ مسیح نے تمام رات اپنے بچنے کے لئے دعا کی اور نہایت غمگین اور دلگیر ہو کر اور رو رو کر اللہ جل شانہ سے التماس کی کہ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گزر جائے اور نہ صرف آپ بلکہ اپنے حواریوں سے بھی اپنے لئے دعا کرائی۔ل الاحزاب:۴۰ یگر