حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 232

۹۱۴ پھر دوسرا ثبوت یہ دینا چاہیئے تھا کہ آؤ خدائی کی علامتیں مجھ میں دیکھ لو جیسے خدا تعالیٰ نے آفتاب ماہتاب سیارے زمین وغیرہ پیدا کیا ہے۔ایک قطعہ زمین کا یا کوئی ستارہ یا کوئی اور چیز میں نے بھی پیدا کی ہے اور اب بھی پیدا کر کے دکھلا سکتا ہوں اور نبیوں کے معمولی معجزات سے بڑھ کر مجھ میں قوت اور قدرت حاصل ہے۔اور مناسب تھا کہ اپنے خدائی کے کاموں کی ایک مفصل فہرست ان کو دیتے کہ دیکھو آج تک یہ یہ کام میں نے خدائی کے کئے ہیں۔کیا حضرت موسیٰ سے لے کر تمہارے کسی آخری نبی تک ایسے کام کسی اور نے بھی کئے ہیں ؟ اگر ایسا ثبوت دیتے تو یہودیوں کے منہ بند ہو جاتا اور اسی وقت تمام فقیہی اور فریسی آپ کے سامنے سجدہ میں گرتے کہ ہاں حضرت ! ضرور آپ خدا ہی ہیں۔ہم بھولے ہوئے تھے۔آپ نے اس آفتاب کے مقابل پر جو ابتدا سے چمکتا ہوا چلا آتا ہے اور دن کو روشن کرتا ہے اور اس ماہتاب کے مقابل پر جو ایک خوبصورت روشنی کے ساتھ رات کو طلوع کرتا ہے اور رات کو منور کر دیتا ہے آپ نے ایک آفتاب اور ایک ماہتاب اپنی طرف سے بنا کر ہم کو دکھلا دیا ہے اور کتا بیں کھول کر اپنی خدائی کا ثبوت ہماری مقبولہ مسلمہ کتابوں سے پیش کر دیا ہے۔اب ہماری کیا مجال ہے کہ بھلا آپ کو خدا نہ کہیں۔جہاں خدا نے اپنی قدرتوں کے ساتھ تجلی کی وہاں عاجز بندہ کیا کر سکتا ہے لیکن حضرت مسیح نے ان دونوں ثبوتوں میں سے کسی ثبوت کو بھی پیش نہ کیا اور پیش کیا تو ان عبارتوں کو پیش کیا سن لیجئے۔تب یہودیوں نے پھر پتھر اٹھائے کہ اس پر پتھراؤ کریں۔یسوع نے انہیں جواب دیا کہ میں نے اپنے باپ کے بہت سے اچھے کام تمہیں دکھائے ہیں ان میں سے کس کام کے لئے تم مجھے پتھراؤ کرتے ہو؟ یہودیوں نے اسے جواب دیا کہ ہم تجھے اچھے کام کے لئے نہیں بلکہ اس لئے تجھے پتھراؤ کرتے ہیں کہ تو کفر کہتا ہے اور انسان ہو کے اپنے تئیں خدا بناتا ہے۔یسوع نے انہیں جواب دیا کہ کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا ہے کہ میں نے کہا تم خدا ہو جبکہ اس نے انہیں جن کے پاس خدا کا کلام آیا خدا کہا اور ممکن نہیں کہ کتاب باطل ہو تم اسے جسے خدا نے مخصوص کیا اور جہان میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے کہ میں نے کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔اب منصفین سوچ لیں کہ کیا الزام کفر کا دور کرنے کے لئے اپنے آپ کو حقیقی طور پر بیٹا اللہ تعالیٰ کا ثابت کرنے کے لئے یہی جواب تھا کہ اگر میں نے خدا کا بیٹا کہلایا تو کیا ہرج ہو گیا تمہارے بزرگ بھی خدا کہلاتے رہے ہیں۔ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب اس جگہ فرماتے ہیں کہ گویا حضرت مسیح ان کے بلوے سے خوفناک ہو کر ڈر گئے