حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 226

۹۰۸ جواب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے کسی شخص کو موت اور حیات اور ضرر اور نفع کا مالک نہیں بناتا نبی لوگ دعا اور تضرع سے معجزہ مانگتے ہیں۔معجزہ نمائی کی ایسی قدرت نہیں رکھتے جیسا کہ انسان کو ہاتھ پیر ہلانے کی قدرت ہوتی ہے۔غرض معجزہ کی حقیقت اور مرتبہ سے یہ امر بالاتر اور ان صفات خاصہ خدائے تعالیٰ میں سے ہے جو کسی حالت میں بشر کومل نہیں سکتیں۔معجزہ کی حقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ ایک امر خارق عادت یا ایک امر خیال اور گمان سے باہر اور امید سے بڑھ کر ایک اپنے رسول کی عزت و صداقت ظاہر کرنے کے لئے اور اس کے مخالفین کی عجز اور مغلوبیت جتلانے کی غرض سے اپنے ارادہ خاص سے یا اس رسول کی دعا اور درخواست سے آپ ظاہر فرماتا ہے مگر ایسے طور سے جو اس کی صفات وحدانیت و تقدس و کمال کے منافی و مغائر نہ ہو اور کسی دوسرے کی وکالت یا کارسازی کا اس میں کچھ دخل نہ ہو۔اب ہر یک دانشمند سوچ سکتا ہے کہ یہ صورت ہرگز معجزہ کی صورت نہیں کہ خدائے تعالی دائمی طور پر ایک شخص کو اجازت اور اذن دیدے کہ تو مٹی کے پرندے بنا کر پھونک مارا کر، وہ حقیقت میں جانور بن جایا کریں گے اور ان میں گوشت اور ہڈی اور خون اور تمام اعضاء جانوروں کے بن جائیں گے۔ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ پرندوں کے بنانے میں اپنی خالقیت کا کسی کو وکیل ٹھہراسکتا ہے تو تمام امور خالقیت میں وکالت تامہ کا عہدہ بھی کسی کو دے سکتا ہے۔اس صورت میں خدائے تعالیٰ کی صفات میں شریک ہونا جائز ہو گا گو اس کے حکم اور اذن سے ہی سہی اور نیز ایسے خالقوں کے سامنے اور فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمُ کی مجبوری سے خالق حقیقی کی معرفت مشتبہ ہو جائے گی۔غرض یہ اعجاز کی صورت نہیں یہ تو خدائی کا حصہ دار بنانا ہے۔بعض دانشمند شرک سے بچنے کے لئے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح جو پرندے بناتے تھے وہ بہت دیر تک جیتے نہیں تھے ان کی عمر چھوٹی ہوتی تھی۔تھوڑی مسافت تک پرواز کر کے پھر گر کر مر جاتے تھے لیکن یہ عذر بالکل فضول ہے اور صرف اس حالت میں ماننے کے لائق ہے کہ جب یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اُن پرندوں میں واقعی اور حقیقی حیات پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ صرف ظلی اور مجازی اور جھوٹی حیات جو عمل الترب کے ذریعہ سے پیدا ہو سکتی ہے۔ایک جھوٹے جھلک کی طرح اُن میں نمودار ہو جاتی تھی۔قرآن شریف کی آیات بھی بآواز بلند یہی پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اس کو طاقت بخشی گئی تھی اور خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر یک فرد بشر کی فطرت