حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 224
۹۰۶ جاننا چاہئے کہ سلب امراض کرنا یا اپنی رُوح کی گرمی جماد میں ڈال دینا درحقیقت یہ سب علم الترب کی شاخیں ہیں۔ہر یک زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس روحانی عمل کے ذریعہ سے سلب امراض کرتے رہے ہیں اور مفلوج ، مبروص۔مدقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہے ہیں۔۔۔اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے گوالیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے کیونکہ البیع کی لاش نے بھی وہ معجزہ دکھلایا کہ اُس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مُردہ زندہ ہو گیا۔مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہو سکیں۔یعنی وہ دو چور مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔بہر حال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل و توفیق سے اُمید قوی رکھتا تھا کہ ان مجو بہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔لیکن مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے جس پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قدم مارا ہے اور حضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوز تھے باذن و حکم الہی اختیار کیا تھا ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت بُرا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی و دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے۔وہ اپنی ان روحانی تا شیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دُور کرتی ہیں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں اُن کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب نا کام کے رہے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ان جسمانی امور کی طرف توجہ نہیں فرمائی اور تمام زور اپنی روح کا دلوں میں ہدایت پیدا ہونے کے لئے ڈالا اسی وجہ سے تکمیل نفوس میں سب سے بڑھ کر رہے اور ہزار ہا بندگانِ خدا کو کمال کے درجہ تک پہنچا دیا اور اصلاح خلق اور اندرونی تبدیلیوں میں وہ ید بیضا دکھلایا کہ جس کی ابتدائے دنیا سے آج تک نظیر نہیں پائی جاتی۔حضرت مسیح کے عمل الترب سے وہ مُردے جو زندہ ہوتے تھے یعنی وہ قریب الموت آدمی جو گویا نئے سرے