حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 223
اعجاز کے طور پر بھی مددملتی ہے۔جیسے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی قومی جو دقائق اور معارف تک پہنچنے میں نہایت تیز و قوی تھے۔سو انہی کے موافق قرآن شریف کا معجزہ دیا گیا جو جامع جمیع دقائق و معارف الہیہ ہے۔پس اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو۔اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید بھی نہیں۔کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دُم بھی ہلاتی ہیں۔اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں اور یوروپ اور امریکہ کے ملکوں میں بکثرت ہیں اور ہر سال نئے نئے نکلتے آتے ہیں اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے اس لئے ان آیات کے روحانی طور پر معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ اُمی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسی نے اپنا رفیق بنایا گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا۔پھر ہدایت کی روح اُن میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریز می طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر اُن چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر جو بالکل بے جان ہے ڈال سکتی ہے تب جماد سے وہ بعض حرکات صادر ہوتی ہیں جو زندوں سے صادر ہوا کرتی ہیں۔راقم رسالہ ہذا نے اس علم کے بعض مشق کرنے والوں کو دیکھا ہے جو انہوں نے ایک لکڑی کی تپائی پر ہاتھ رکھ کر ایسا اپنی حیوانی روح سے اسے گرم کیا کہ اس نے چار پایوں کی طرح حرکت کرتا شروع کر دیا۔اور کتنے آدمی گھوڑے کی طرح اس پر سوار ہوئے اور اس کی تیزی اور حرکت میں کچھ کمی نہ ہوئی۔مگر یا د رکھنا چاہئے کہ ایسا جانور جومٹی یا لکڑی وغیرہ سے بنایا جاوے اور عمل الترب سے اپنی رُوح کی گرمی اس کو پہنچائی جائے وہ درحقیقت زندہ نہیں ہوتا۔بلکہ بدستور بے جان اور جماد ہوتا ہے صرف عامل کے رُوح کی گرمی بارود کی طرح اس کو جنبش میں لاتی ہے۔اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا اور نہ در حقیقت ان کا زندہ ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔اس جگہ یہ بھی