حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 222
۹۰۴ ہیں جو خدائے تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں اور کون سے ایسے پرندے ہیں جو ان پرندوں کی نسل ہیں جن کے حضرت عیسی خالق ہیں تو اس نے اپنے ساکت رہنے سے یہی جواب دیا کہ میں شناخت نہیں کر سکتا۔اب واضح رہے کہ اس زمانہ کے بعض موحدین کا یہ اعتقاد کہ پرندوں کے نوع میں سے کچھ تو خدائے تعالیٰ کی مخلوق اور کچھ حضرت عیسیٰ کی مخلوق ہے سراسر فاسد اور مشرکانہ خیال ہے اور ایسا خیال رکھنے والا بلا شبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔سو واضح ہو کہ انبیاء کے معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) ایک وہ جو محض سماوی امور ہوتے ہیں جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا۔جیسے شق القمر جو ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا اور خدائے تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے ایک راستباز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اس کو دکھایا تھا۔(۲) دوسرے عقلی معجزات ہیں جو اس خارق عادت عقل کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو الہام الہی سے ملتی ہے جیسے حضرت سلیمان کا وہ معجزہ جو صَرْحُ مُّمَرِّدُ مِنْ قَوَارِيرَ ہے جس کو دیکھ کر بلقیس کو ایمان نصیب ہوا۔اب جاننا چاہئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات مُجھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔وہ لوگ جو فرعون کے وقت میں مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے جو سانپ بنا کر دکھلا دیتے تھے۔اور کئی قسم کے جانور طیار کر کے ان کو زندہ جانوروں کی طرح چلا دیتے تھے۔وہ حضرت مسیح کے وقت میں عام طور پر یہودیوں کے ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے اُن کے بہت سے ساحرانہ کام سیکھ لئے تھے۔جیسا کہ قرآن کریم بھی اس بات کا شاہد ہے۔سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدائے تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے۔یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام در حقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کی ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے اور جیسے انسان میں قومی موجود ہوں انہی کے موافق النمل: ۴۵