حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 221
۹۰۳ اور جس طرح مٹی پر گر پڑتی تھی اور جس طرح مٹی کے کھلونے انسانی کلوں سے چلتے پھرتے ہیں وہ ایک نبی کی روح کی سرائت سے پرواز کرتے تھے۔ورنہ حقیقی خالقیت کے ماننے سے عظیم الشان فساد اور شرک لازم آتا ہے غرض تو معجزہ سے ہے اور بے جان کا با وجود بے جان ہونے کے پرواز یہ بڑا معجزہ ہے۔ہاں اگر قرآن کریم کی کسی قراءت میں اس موقعہ پر فَيَكُونُ حَيًّا کا لفظ موجود ہے یا تاریخی طور پر ثابت ہے کہ در حقیقت وہ زندہ ہو جاتے تھے اور انڈے بھی دیتے تھے اور اب تک اُن کی نسل سے بھی بہت سے پرندے موجود ہیں تو پھر ان کا ثبوت دینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ اگر تمام دنیا چاہے کہ ایک مکھی بنا سکے تو نہیں بن سکتی کیونکہ اس سے تشابہ فی خلق اللہ لازم آتا ہے۔اور یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ نے آپ ان کو خالق ہونے کا اذن دے رکھا تھا۔یہ خدا تعالیٰ پر افتراء ہے کلام الہی میں تناقض نہیں۔خدا تعالیٰ کسی کو ایسے اذن نہیں دیا کرتا۔اللہ تعالیٰ نے سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مکھی بنانے کا بھی اذن نہ دیا۔پھر مریم کے بیٹے کو یہ اذن کیونکر حاصل ہوا؟ خدا تعالیٰ سے ڈرو اور مجاز کو حقیقت پر حمل نہ کرو۔( شہادت القرآن۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۷۲ تا ۴ ۳۷ حاشیه ) بعض لوگ موحدین کے فرقہ میں سے بحوالہ آیت قرآنی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم انواع و اقسام کے پرندے بنا کر اور اُن میں پھونک مار کر زندہ کر دیا کرتے تھے۔چنانچہ اسی بنا پر اس عاجز پر اعتراض کیا ہے کہ جس حالت میں مثیل مسیح ہونے کا دعوی ہے تو پھر آپ بھی کوئی مٹی کا پرندہ بنا کر پھر اس کو زندہ کر کے دکھلائیے کیونکہ جس حالت میں حضرت مسیح کے کروڑ ہا پرندے بنائے ہوئے اب تک موجود ہیں جو ہر طرف پرواز کرتے نظر آتے ہیں تو پھر مثیل مسیح بھی کسی پرندہ کا خالق ہونا چاہئے۔ان تمام اوہام باطلہ کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جن میں ایسا لکھا ہے متشابہات میں سے ہیں۔اور اُن کے یہ معنے کرنا کہ گویا خدائے تعالیٰ نے اپنے ارادہ اور اذن سے حضرت عیسی کو صفات خالقیت میں شریک کر رکھا تھا صریح الحاد اور سخت بے ایمانی ہے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ اپنی صفات خاصہ والوہیت بھی دوسروں کو دے سکتا ہے تو اس سے اس کی خدائی باطل ہوتی ہے اور موحد صاحب کا یہ عذر کہ ہم ایسا اعتقاد تو نہیں رکھتے کہ اپنی ذاتی طاقت سے حضرت عیسی خالق طیور تھے بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ طاقت خدائے تعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادہ سے ان کو دے رکھی تھی اور اپنی مرضی سے ان کو اپنی خالقیت کا حصہ دار بنا دیا تھا اور یہ اس کو اختیار ہے کہ جس کو چاہے اپنا مثیل بنا دیوے قادر مطلق جو ہوا۔یہ سراسر مشرکانہ باتیں ہیں اور کفر سے بدتر۔اس موحد کو یہ بھی کہا گیا کہ کیا تم اب شناخت کر سکتے ہو کہ ان پرندوں میں سے کون سے ایسے پرندے