حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 18
وہ ایک روشنی ہے جو دلوں پر اُترتی ہے اور دکھا دیتی ہے کہ کون سے ہلاکت کے گڑھے ہیں۔حق اور حکمت کی راہ پر چلو کہ اُس سے خدا کو پاؤ گے اور اپنے دلوں میں گرمی پیدا کرو تا سچائی کی طرف حرکت کر سکو۔بدنصیب ہے وہ دل جو ٹھنڈا پڑا ہے اور بد بخت ہے وہ طبیعت جو افسردہ ہے اور مُردہ ہے وہ کانشنس جس میں چمک نہیں۔پس تم اُس ڈول سے کم نہ رہو جو کنوئیں میں خالی گرتا اور بھر کر نکلتا ہے اور اُس چھانی کی صفت مت اختیار کرو جس میں کچھ بھی پانی نہیں ٹھہر سکتا اور ایک راہ سے آتا اور دوسری راہ سے چلا جاتا ہے۔کوشش کرو کہ تندرست ہو جاؤ اور وہ دنیا طلبی کے تپ کی زہریلی گرمی دور ہو جائے جس کی وجہ سے نہ آنکھوں میں روشنی ہے نہ کان اچھی طرح سُن سکتے ہیں نہ زبان کا مزہ درست ہے اور نہ ہاتھوں میں زور اور نہ پیروں میں طاقت ہے۔ایک تعلق کو قطع کرو تا دوسرا تعلق پیدا ہو۔ایک طرف سے دل کو روکوتا دوسری طرف دل کو راہ مل جائے۔زمین کا نجس کیڑا پھینک دو تا آسمان کا چمکیلا ہیرا تمہیں عطا ہو اور اپنے مبدا کی طرف رجوع کرو وہی مبدا جبکہ آدم اس خدائی رُوح سے زندہ کیا گیا تھا تا تمہیں تمام چیزوں پر بادشاہت ملے جیسا کہ تمہارے باپ کو ملی۔( گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۶۴۱ تا ۶۴۸ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن) پھر معرفت کے بعد بڑی ضروری نجات کے لئے محبت الہی ہے۔یہ بات نہایت واضح اور بد یہی ہے کہ کوئی شخص اپنے محبت کرنے والے کو عذاب دینا نہیں چاہتا بلکہ محبت محبت کو جذب کرتی اور اپنی طرف کھینچتی ہے۔جس شخص سے کوئی سچے دل سے محبت کرتا ہے اُس کو یقین کرنا چاہئے کہ وہ دوسرا شخص بھی جس سے محبت کی گئی ہے اس سے دشمنی نہیں کر سکتا بلکہ اگر ایک شخص ایک شخص کو جس سے وہ اپنے دل سے محبت رکھتا ہے اپنی اس محبت سے اطلاع بھی نہ دے تب بھی اس قدر اثر تو ضرور ہوتا ہے کہ وہ شخص اس سے دشمنی نہیں کر سکتا۔اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے۔اور خدا کے نبیوں اور رسولوں میں جو ایک قوت جذب اور کشش پائی جاتی ہے اور ہزار ہا لوگ اُن کی طرف کھینچے جاتے اور ان سے محبت کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنی جان بھی ان پر فدا کرنا چاہتے ہیں۔اس کا سبب یہی ہے کہ بنی نوع کی بھلائی اور ہمدردی ان کے دل میں ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ ماں سے بھی زیادہ انسانوں سے پیار کرتے ہیں اور اپنے تئیں دُکھ اور درد میں ڈال کر بھی اُن کے آرام کے خواہشمند ہوتے ہیں۔آخر ان کی سچی کشش سعید دلوں کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیتی ہے۔پھر جبکہ انسان باوجود یکہ وہ عالم الغیب نہیں دوسرے شخص کی مخفی محبت پر اطلاع پا لیتا ہے تو پھر کیونکر خدا تعالیٰ جو عالم الغیب ہے کسی کی خالص محبت سے بے خبر رہ سکتا ہے