حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 214
۸۹۶ اب جس حالت میں قرآن شریف کے صاف لفظوں سے حضرت عیسی علیہ السلام کی موت ہی ثابت ہوتی ہے اور دوسری طرف قرآن شریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین رکھتا ہے اور حدیث ان دونوں باتوں کی مصدق ہے اور ساتھ ہی حدیث نبوی یہ بھی بتلا رہی ہے کہ آنے والا مسیح اس امت میں سے ہو گا گوکسی قوم کا ہو تو اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ باوجود نصوص صریح کے جو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات اور آنے والے مسیح کے امتی ہونے پر دلالت کرتی تھیں پھر کیوں اس بات پر اجماع ہو گیا کہ در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام آخری زمانہ میں آسمان سے اتر آئیں گے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس امر میں جو شخص اجتماع کا دعوی کرتا ہے وہ سخت نادان یا سخت خیانت پیشہ اور دروغ گو ہے۔کیونکہ صحابہ کو اس پیشگوئی کی تفاصیل کی ضرورت نہ تھی۔وہ بلاشبہ بموجب آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی اس بات پر ایمان لاتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔تبھی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت اس بات کا احساس کر کے کہ بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میں شک رکھتے ہیں زور سے یہ بیان کیا کہ کوئی بھی نبی زندہ نہیں ہے سب فوت ہو گئے۔اور یہ آیت پڑھی کہ قدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اور کسی نے اُن کے اس بیان پر انکار نہ کیا پھر ماسوا اس کے امام مالک جیسا امام عالم حدیث و قرآن و متقی اس بات کا قائل ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ایسا ہی امام ابن حزم جن کی جلالت شان محتاج بیان نہیں قائل وفات مسیح ہیں۔اسی طرح امام بخاری جن کی کتاب بعد کتاب اللہ اصح الکتب ہے وفات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ایسا ہی فاضل و محدّث ومفسر ابن تیمیہ وابن قیم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔ایسا ہی رئیس المتصوفين شیخ محی الدین ابن العربی صریح اور صاف لفظوں سے اپنی تفسیر میں وفات حضرت عیسی علیہ السلام کی تصریح فرماتے ہیں۔اسی طرح اور بڑے بڑے فاضل اور محدث اور مفسر برابر یہی گواہی دیتے آئے ہیں اور فرقہ معتزلہ کے تمام اکابر اور امام یہی مذہب رکھتے ہیں۔پھر کس قدر افترا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جانا اور پھر واپس آنا اجماعی عقیدہ قرار دیا جائے بلکہ یہ اس زمانہ کے عوام الناس کے خیالات ہیں جبکہ ہزار ہا بدعات دین میں پیدا ہو گئی تھیں اور یہ وسط کا زمانہ تھا جس کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیج اعوج رکھا ہے اور فیج اعوج کے لوگوں کی نسبت فرمایا ہے کہ ليسوا منی و لست منهم۔۔۔۔ان لوگوں نے یہ عقیدہ اختیار کر کے چار طور سے قرآن شریف کی مخالفت