حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 209

۸۹۱ دیکھو یہ آمیتیں کس قدر صراحت سے مسیح اور ان سب انسانوں کی وفات پر دلالت کر رہی ہیں جن کو یہود اور نصاریٰ اور بعض فرقے عرب کے اپنا معبود ٹھہراتے تھے اور ان سے دعائیں مانگتے تھے۔اگر اب بھی آپ لوگ مسیح ابن مریم کی وفات کے قائل نہیں ہوتے تو سیدھے یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہمیں قرآن کریم کے ماننے میں کلام ہے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۱) سوال۔قرآن شریف سے اگر چہ مسیح کی موت ثابت ہوتی ہے مگر اس موت کا کوئی وقت خاص تو ثابت نہیں ہوتا۔پس تعارض حدیث اور قرآن کا دور کرنے کیلئے بجز اس کے اور کیا راہ ہے کہ اس موت کا زمانہ وہ قرار دیا جائے کہ جب پھر حضرت مسیح نازل ہونگے۔اما الجواب پس واضح ہو کہ قرآن شریف کی نصوص بعینہ اسی بات پر بصراحت دلالت کر رہی ہیں کہ مسیح اپنے اسی زمانہ میں فوت ہو گیا ہے جس زمانہ میں وہ بنی اسرائیل کے مفسد فرقوں کی اصلاح کے لئے آیا تھا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔يُحِيْنَى اِنّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ القِيمة اب اس جگہ ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اِنِّي مُتَوَفِّيكَ پہلے لکھا ہے اور رافِعُكَ بعد اس کے بیان فرمایا ہے۔جس سے ثابت ہوا کہ وفات پہلے ہوئی اور رفع بعد از وفات ہوا۔اور پھر اور ثبوت یہ ہے کہ اس پیشگوئی میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ میں تیری وفات کے بعد تیرے متبعین کو تیرے مخالفوں پر جو یہودی ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا۔اب ظاہر ہے اور تمام عیسائی اور مسلمان اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ یہ پیشگوئی حضرت مسیح کے بعد اسلام کے ظہور تک بخوبی پوری ہو گئی کیونکہ خدائے تعالیٰ نے یہودیوں کو ان لوگوں کی رعیت اور ماتحت کر دیا جو عیسائی یا مسلمان ہیں اور آج تک صدہا برسوں سے وہ ماتحت چلے آتے ہیں۔یہ تو نہیں کہ حضرت مسیح کے نزول کے بعد پھر ماتحت ہونگے۔ایسے معنے تو بہ بداہت فاسد ہیں۔دیکھنا چاہئے کہ قرآن شریف میں یہ بھی آیت ہے جو حضرت مسیح کی زبان سے اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔وَأَوْطَنِى بِالصَّلوةِ وَالزَّكُوةِ مَا دُمْتُ حَيَّاقَ بَرا بِوَالِدَتِي لا یعنی حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے نماز پڑھتارہ اور زکوۃ دیتا رہ اور اپنی والدہ پر احسان کرتا رہ جب تک تو زندہ ہے۔اب ظاہر ہے کہ ان تمام تکلیفات شرعیہ کا آسمان پر بجالا نا محال ہے اور جو ال عمران: ۲۵۶ مریم: ۳۳۳۲