حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 17
۶۹۹ ہیں اور انسان کی رُوح پانی کی طرح بہہ کر خدا کے آستانہ پر گر جاتی ہے اور آسمان سے ایک روشنی اُترتی اور تمام نفسانی ظلمت کو دور کر دیتی ہے اسی طرح جب کہ تم روز روشن میں چاروں طرف کھڑکیاں کھول دو تو یہ طبعی قانون تمہیں نظر آ جائے گا کہ فی الفور سورج کی روشنی تمہارے اندر آ جائے گی لیکن اگر تم اپنی کھڑکیاں بند رکھو گے تو محض کسی قصہ یا کہانی سے وہ روشنی تمہارے اندر نہیں آ سکتی۔تمہیں روشنی لینے کے لئے یہ ضرور کرنا پڑے گا کہ اپنے مقام سے اُٹھو اور کھڑکیاں کھول دو۔تب خود بخو د روشنی تمہارے اندر آ جائے گی اور تمہارے گھر کو روشن کر دے گی۔کیا کوئی صرف پانی کے خیال سے اپنی پیاس بجھا سکتا ہے؟ نہیں بلکہ اس کو چاہئے کہ افتان و خیزاں پانی کے چشمہ پر پہنچے اور اس زلال پر اپنی لہیں رکھ دے۔تب اس آب شیر میں سے سیراب ہو جائے گا۔سو وہ پانی جس سے تم سیراب ہو جاؤ گے اور گناہ کی سوزش اور جلن جاتی رہے گی۔وہ یقین ہے۔آسمان کے نیچے گناہ سے پاک ہونے کے لئے بجز اس کے کوئی بھی حیلہ نہیں۔کوئی صلیب نہیں جو تمہیں گناہ سے چھڑا سکے کوئی خون نہیں جو تمہیں نفسانی جذبات سے روک سکے۔ان باتوں کو حقیقی نجات سے کوئی رشتہ اور تعلق نہیں۔حقیقوں کو سمجھو۔سچائیوں پر غور کرو اور جس طرح دنیا کی چیزوں کو آزماتے ہو اس کو بھی آزماؤ تب تمہیں جلد سمجھ آ جائے گی کہ بغیر سچے یقین کے کوئی روشنی نہیں جو تمہیں نفسانی ظلمت سے چھڑا سکے اور بغیر کامل بصیرت کے مصفا پانی کے تمہاری اندرونی غلاظتوں کو کوئی بھی دھو نہیں سکتا اور بغیر رؤیت حق کی زلال کے تمہاری جلن اور سوزش کبھی دُور نہیں ہوسکتی۔جھوٹا ہے وہ شخص جو اور اور تدبیریں تمہیں بتلاتا ہے اور جاہل ہے وہ انسان جو اور قسم کا علاج کرنا چاہتا ہے۔وہ لوگ تمہیں روشنی نہیں دے سکتے بلکہ اور بھی ظلمت کے گڑھے میں ڈالتے ہیں اور تمہیں آب شیریں نہیں دیتے بلکہ وہ اور بھی جلن اور سوزش زیادہ کرتے ہیں۔کوئی خون تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتا مگر وہ خون جو یقین کی غذا سے خود تمہارے اندر پیدا ہو اور کوئی صلیب تمہیں چھڑا نہیں سکتی مگر راہ راست کی صلیب یعنی سچائی پر صبر کرنا۔سو تم آنکھیں کھو لو اور دیکھو کہ کیا یہ سچ نہیں کہ تم روشنی سے ہی دیکھ سکتے ہو نہ کسی اور چیز سے اور صرف سیدھی راہ سے منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہو نہ کسی اور راہ سے۔دنیا کی چیزیں تم سے نزدیک ہیں اور دین کی چیزیں دور۔پس جونز دیک ہیں انہی پر غور کرو اور ان کا قانون سمجھ لو اور پھر دور کو اس پر قیاس کر لو کیونکہ وہی ایک ہے جس نے یہ دونوں قانون بنائے ہیں۔۔۔۔یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ تم بغیر روشنی حاصل کرنے کے محض اندھے رہ کر پھر کسی کے خون سے نجات پا جاؤ۔نجات کوئی ایسی شے نہیں ہے جو اس دنیا کے بعد ملے گی۔بچی اور حقیقی نجات اسی دنیا میں ملتی ہے۔